صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ جنگ کرنے کا بیان ۔ حدیث 1765

شادی شدہ عورت کو زناء سے حاملہ ہونے پر سنگسار کرنے کا بیان

راوی: عبدالعزیز بن عبداللہ , ابراہیم بن سعد , صالح , ابن شہاب , عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود , ابن عباس

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کُنْتُ أُقْرِئُ رِجَالًا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مِنْهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَبَيْنَمَا أَنَا فِي مَنْزِلِهِ بِمِنًی وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا إِذْ رَجَعَ إِلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ لَوْ رَأَيْتَ رَجُلًا أَتَی أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ الْيَوْمَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ لَکَ فِي فُلَانٍ يَقُولُ لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ لَقَدْ بَايَعْتُ فُلَانًا فَوَاللَّهِ مَا کَانَتْ بَيْعَةُ أَبِي بَکْرٍ إِلَّا فَلْتَةً فَتَمَّتْ فَغَضِبَ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ إِنِّي إِنْ شَائَ اللَّهُ لَقَائِمٌ الْعَشِيَّةَ فِي النَّاسِ فَمُحَذِّرُهُمْ هَؤُلَائِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَغْصِبُوهُمْ أُمُورَهُمْ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ وَغَوْغَائَهُمْ فَإِنَّهُمْ هُمْ الَّذِينَ يَغْلِبُونَ عَلَی قُرْبِکَ حِينَ تَقُومُ فِي النَّاسِ وَأَنَا أَخْشَی أَنْ تَقُومَ فَتَقُولَ مَقَالَةً يُطَيِّرُهَا عَنْکَ کُلُّ مُطَيِّرٍ وَأَنْ لَا يَعُوهَا وَأَنْ لَا يَضَعُوهَا عَلَی مَوَاضِعِهَا فَأَمْهِلْ حَتَّی تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ فَإِنَّهَا دَارُ الْهِجْرَةِ وَالسُّنَّةِ فَتَخْلُصَ بِأَهْلِ الْفِقْهِ وَأَشْرَافِ النَّاسِ فَتَقُولَ مَا قُلْتَ مُتَمَکِّنًا فَيَعِي أَهْلُ الْعِلْمِ مَقَالَتَکَ وَيَضَعُونَهَا عَلَی مَوَاضِعِهَا فَقَالَ عُمَرُ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَأَقُومَنَّ بِذَلِکَ أَوَّلَ مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي عُقْبِ ذِي الْحَجَّةِ فَلَمَّا کَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ عَجَّلْتُ الرَّوَاحَ حِينَ زَاغَتْ الشَّمْسُ حَتَّی أَجِدَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ جَالِسًا إِلَی رُکْنِ الْمِنْبَرِ فَجَلَسْتُ حَوْلَهُ تَمَسُّ رُکْبَتِي رُکْبَتَهُ فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ مُقْبِلًا قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ لَيَقُولَنَّ الْعَشِيَّةَ مَقَالَةً لَمْ يَقُلْهَا مُنْذُ اسْتُخْلِفَ فَأَنْکَرَ عَلَيَّ وَقَالَ مَا عَسَيْتَ أَنْ يَقُولَ مَا لَمْ يَقُلْ قَبْلَهُ فَجَلَسَ عُمَرُ عَلَی الْمِنْبَرِ فَلَمَّا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُونَ قَامَ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي قَائِلٌ لَکُمْ مَقَالَةً قَدْ قُدِّرَ لِي أَنْ أَقُولَهَا لَا أَدْرِي لَعَلَّهَا بَيْنَ يَدَيْ أَجَلِي فَمَنْ عَقَلَهَا وَوَعَاهَا فَلْيُحَدِّثْ بِهَا حَيْثُ انْتَهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ وَمَنْ خَشِيَ أَنْ لَا يَعْقِلَهَا فَلَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَکْذِبَ عَلَيَّ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْکِتَابَ فَکَانَ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ آيَةُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ فَأَخْشَی إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ وَاللَّهِ مَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْکِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ وَالرَّجْمُ فِي کِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَی مَنْ زَنَی إِذَا أُحْصِنَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ إِذَا قَامَتْ الْبَيِّنَةُ أَوْ کَانَ الْحَبَلُ أَوْ الِاعْتِرَافُ ثُمَّ إِنَّا کُنَّا نَقْرَأُ فِيمَا نَقْرَأُ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ أَنْ لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ فَإِنَّهُ کُفْرٌ بِکُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ أَوْ إِنَّ کُفْرًا بِکُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ أَلَا ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُطْرُونِي کَمَا أُطْرِيَ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ وَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ قَائِلًا مِنْکُمْ يَقُولُ وَاللَّهِ لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ بَايَعْتُ فُلَانًا فَلَا يَغْتَرَّنَّ امْرُؤٌ أَنْ يَقُولَ إِنَّمَا کَانَتْ بَيْعَةُ أَبِي بَکْرٍ فَلْتَةً وَتَمَّتْ أَلَا وَإِنَّهَا قَدْ کَانَتْ کَذَلِکَ وَلَکِنَّ اللَّهَ وَقَی شَرَّهَا وَلَيْسَ مِنْکُمْ مَنْ تُقْطَعُ الْأَعْنَاقُ إِلَيْهِ مِثْلُ أَبِي بَکْرٍ مَنْ بَايَعَ رَجُلًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يُبَايَعُ هُوَ وَلَا الَّذِي بَايَعَهُ تَغِرَّةً أَنْ يُقْتَلَا وَإِنَّهُ قَدْ کَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ تَوَفَّی اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَنْ مَعَهُمَا وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَقُلْتُ لِأَبِي بَکْرٍ يَا أَبَا بَکْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی إِخْوَانِنَا هَؤُلَائِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَانْطَلَقْنَا نُرِيدُهُمْ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ لَقِيَنَا مِنْهُمْ رَجُلَانِ صَالِحَانِ فَذَکَرَا مَا تَمَالَأَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَقَالَا أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَقُلْنَا نُرِيدُ إِخْوَانَنَا هَؤُلَائِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَا لَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَقْرَبُوهُمْ اقْضُوا أَمْرَکُمْ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّهُمْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی أَتَيْنَاهُمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَإِذَا رَجُلٌ مُزَمَّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا هَذَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقُلْتُ مَا لَهُ قَالُوا يُوعَکُ فَلَمَّا جَلَسْنَا قَلِيلًا تَشَهَّدَ خَطِيبُهُمْ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ وَکَتِيبَةُ الْإِسْلَامِ وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ رَهْطٌ وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِکُمْ فَإِذَا هُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا وَأَنْ يَحْضُنُونَا مِنْ الْأَمْرِ فَلَمَّا سَکَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ وَکُنْتُ قَدْ زَوَّرْتُ مَقَالَةً أَعْجَبَتْنِي أُرِيدُ أَنْ أُقَدِّمَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَکْرٍ وَکُنْتُ أُدَارِي مِنْهُ بَعْضَ الْحَدِّ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی رِسْلِکَ فَکَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ فَکَانَ هُوَ أَحْلَمَ مِنِّي وَأَوْقَرَ وَاللَّهِ مَا تَرَکَ مِنْ کَلِمَةٍ أَعْجَبَتْنِي فِي تَزْوِيرِي إِلَّا قَالَ فِي بَدِيهَتِهِ مِثْلَهَا أَوْ أَفْضَلَ مِنْهَا حَتَّی سَکَتَ فَقَالَ مَا ذَکَرْتُمْ فِيکُمْ مِنْ خَيْرٍ فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ وَلَنْ يُعْرَفَ هَذَا الْأَمْرُ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا وَقَدْ رَضِيتُ لَکُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ فَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَنَا فَلَمْ أَکْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا کَانَ وَاللَّهِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي لَا يُقَرِّبُنِي ذَلِکَ مِنْ إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلَی قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَکْرٍ اللَّهُمَّ إِلَّا أَنْ تُسَوِّلَ إِلَيَّ نَفْسِي عِنْدَ الْمَوْتِ شَيْئًا لَا أَجِدُهُ الْآنَ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْکُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ فَکَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتْ الْأَصْوَاتُ حَتَّی فَرِقْتُ مِنْ الِاخْتِلَافِ فَقُلْتُ ابْسُطْ يَدَکَ يَا أَبَا بَکْرٍ فَبَسَطَ يَدَهُ فَبَايَعْتُهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ ثُمَّ بَايَعَتْهُ الْأَنْصَارُ وَنَزَوْنَا عَلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَقُلْتُ قَتَلَ اللَّهُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ عُمَرُ وَإِنَّا وَاللَّهِ مَا وَجَدْنَا فِيمَا حَضَرْنَا مِنْ أَمْرٍ أَقْوَی مِنْ مُبَايَعَةِ أَبِي بَکْرٍ خَشِينَا إِنْ فَارَقْنَا الْقَوْمَ وَلَمْ تَکُنْ بَيْعَةٌ أَنْ يُبَايِعُوا رَجُلًا مِنْهُمْ بَعْدَنَا فَإِمَّا بَايَعْنَاهُمْ عَلَی مَا لَا نَرْضَی وَإِمَّا نُخَالِفُهُمْ فَيَکُونُ فَسَادٌ فَمَنْ بَايَعَ رَجُلًا عَلَی غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يُتَابَعُ هُوَ وَلَا الَّذِي بَايَعَهُ تَغِرَّةً أَنْ يُقْتَلَا

عبدالعزیز بن عبداللہ ، ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں مہاجرین کے کچھ لوگوں کو پڑھاتا تھا جن میں عبدالرحمن بن عوف بھی تھے۔ ایک دن میں ان کے گھر میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ حضرت عمر بن خطاب کے پاس تھے اس حج میں جوحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آخری بار کیا تھا، عبدالرحمن میرے پاس لوٹ کر آئے اور کہا کہ کاش، تم اس شخص کو دیکھتے جو آج امیرالمومنین کے پاس آیا اور کہا کہ اے امیرالمومنین آپ کو فلاں کے متعلق خبر ہے جو کہتا ہے کہ اگر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرجائیں تو میں فلاں کی بیعت کرلوں، اللہ کی قسم ابوبکر کی بیعت اتفاقیہ تھی جو پوری ہوگئی، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غصہ آگیا اور کہا کہ انشاء اللہ میں شام کے وقت لوگوں میں کھڑا ہوں گا اور ان کو ڈراؤں گا جو مسلمانوں کے امور کو غصب کرنا چاہتے ہیں، عبدالرحمن کا بیان ہے کہ میں نے کہا کہ اے امیرالمومنین ایسا نہ کیجئے اس لئے کہ موسم حج میں جبکہ عام اور پست قسم کے لوگ جمع ہوجاتے ہیں جس وقت آپ کھڑے ہوں گے تو اس قسم کے لوگ کی اکثریت آپ کے پاس ہوگی اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کھڑے ہو کر جو بات کہیں گے اس کو اڑا کر دوسری طرف لے جائیں گے اور اس کی حفاظت نہیں کریں گے اور اس کو اس کے (مناسب) مقام پر نہیں رکھیں گے، اس لئے آپ انتظار کریں یہاں تک کہ مدینہ پہنچیں، اس لئے کہ وہ دارالہجرت والسنت ہے صرف سمجھدار اور سربرآوردہ لوگوں کے سامنے آپ جو کہنا چاہیں کہیں تاکہ اہل علم آپ کی گفتگو کو محفوظ رکھیں۔ اور اس کو اس کے مناسب مقام پر رکھیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم، اگر اللہ نے چاہا تو مدینہ میں سب سے پہلے میں ہی بیان کروں گا، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ ہم لوگ ذی الحجہ کے آخر میں مدینہ پہنچے، جب جمعہ کا دن آیا تو آفتاب کے ڈھلتے ہی ہم مسجد کی طرف جلدی سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کو منبر کے ستوں کے پاس بیٹھا ہوا پایا، میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا میرا گھٹنا ان کے گھٹنے سے ملا ہوا تھا، فورا ہی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب آئے جب میں نے ان کو آتے ہوئے دیکھا تو میں نے سعید بن زید بن عمروبن نفیل سے کہا کہ آج حضرت عمر ایک ایسی بات کہیں گے جو انہوں نے کبھی نہیں کہی ہوگی، جب سے خلیفہ ہوئے ہیں، سعید نے میری بات سے انکار کیا اور کہا کہ مجھے امید نہیں ہے کہ ایسی بات کہیں گے جو اس سے پہلے نہ کہی ہو، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ منبر پر بیٹھ گئے، جب لوگ خاموش ہوگئے تو کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد بیان کی جس کا وہ مستحق ہے پھر کہا امابعد، میں تم سے ایسی بات کہنے والا ہوں جس کا کہنا میرے مقدر میں نہ تھا، میں یہ نہیں جانتا کہ شاید یہ میری موت کے آگے ہو جس نے اس کو سمجھا اور یاد کیا تو وہ جہاں بھی پہنچے دوسروں سے بیان کرے اور جس شخص کو خطرہ ہو کہ وہ اس کو نہیں سمجھے گا تو میں کسی کے لئے حلال نہیں سمجھتا ہوں کہ وہ میرے متعلق جھوٹ بولے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے اور ان پر اللہ نے اپنی کتاب نازل کی ہے اللہ نے جو آیت نازل کی اس میں رجم کی بھی آیت تھی ہم نے اس کو پڑھا اور سمجھا اور محفوظ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کیا اور ہم نے بھی ان کے بعد سنگسار کیا، مجھے اندیشہ ہے کہ مدت دراز کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک کہنے والا کہے گا کہ اللہ کی قسم ہم آیت رجم کتاب اللہ میں نہیں پاتے وہ اس فرض کو چھوڑ کر گمراہ ہوگا جو اللہ نے نازل کیا ہے اور رجم کتاب اللہ میں زنا کرنے والے مرد و عورت پر جبکہ شادی شدہ ہوں واجب ہے بشرطیکہ گواہ قائم ہوجائیں یاحمل قرار پا جائے یا اقرار کرے، پھر ہم کتاب اللہ میں جو پڑھتے تھے اس میں یہ بھی تھا کہ تم اپنے باپوں سے نفرت نہ کرو کیونکہ تمہارا اپنے باپوں سے نفرت کرنا تمہارے لئے کفر ہے یا یہ فرمایا کہ بے شک تمہارے لئے یہ کفر ہے کہ تم اپنے باپوں سے نفرت کرو، پھر سن لو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو، جس طرح عیسیٰ بن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا گیا ہے اور تم صرف اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو پھر کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ اللہ کی قسم اگر عمر مرجائیں تو میں فلاں کی بیعت کرلوں تمہیں کوئی شخص یہ کہہ کر دھوکہ نہ دے کہ ابوبکر کی بیعت اتفاقیہ تھی اور پھر پوری ہوگئی، سن لو کہ وہ ایسی ہی تھی لیکن اللہ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں سے کوئی شخص نہیں ہے جس میں ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی فضیلت ہو، جس شخص نے کسی کے ہاتھ پر مسلمانوں سے مشورہ کئے بغیر بیعت کرلی تو اس کی بیعت نہ کی جائے۔ اس خوف سے کہ وہ قتل کردیئے جائیں گے جس وقت اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی تو اس وقت وہ (حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہم سب سے بہتر ہے۔ مگر انصار نے ہماری مخالفت کی اور سارے لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے اور حضرت علی وزبیر نے بھی ہماری مخالفت کی اور مہاجرین ابوبکر کے پاس جمع ہوئے تو میں نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے ابوبکر ہم لوگ اپنے انصار بھائیوں کے پاس چلیں، ہم لوگ انصار کے پاس جانے کے ارادے سے چلے جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک بخت آدمی ہم سے ملے، ان دونوں نے وہ بیان کیا جس کی طرف وہ لوگ مائل تھے پھر انہوں نے پوچھا اے جماعت مہاجرین کہاں کا قصد ہے ہم نے کہا کہ اپنے انصار بھائیوں کے پاس جانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا تمہارے لئے مناسب نہیں کہ ان کے قریب جاؤ تم اپنے امر کا فیصلہ کرو میں نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم ان کے پاس جائیں گے چنانچہ ہم چلے یہاں تک کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں ہم ان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو ان کے درمیان دیکھا کہ کمبل میں لپٹا ہوا ہے میں نے کہا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ سعد بن عبادہ، میں نے کہا کہ ان کو کیا ہوا لوگوں نے عرض کیا کہ ان کو بخار ہے ہم تھوڑی دیر بیٹھے تھے کہ ان کا خطیب کلمہ شہادت پڑھنے لگا اور اللہ کی حمدوثناء کرنے لگا جس کا وہ سزاوار ہے۔ پھر کہا امابعد، ہم اللہ کے انصار اور اسلام کے لشکر ہیں اور تم اے مہاجرین وہ گروہ ہو کہ تمہاری قوم کے کچھ آدمی فقر کی حالت میں اس ارادہ سے نکلے کہ ہمیں ہماری جماعت کو جڑ سے جدا کردیں اور ہماری حکومت ہم سے لے لیں۔ جب وہ خاموش ہوا تو میں نے بولنا چاہا، میں نے ایک بات سوچ رکھی کہ جس کو میں ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیان کرنا چاہتا تھا۔ اور میں ان کا ایک حد تک لحاظ کرتا تھا، جب میں نے بولنا چاہا تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گفتگو کی وہ مجھ سے زیادہ بردبار اور باوقار تھے۔ اللہ کی قسم جو بات میری سمجھ میں اچھی معلوم ہوتی تھی اسی طرح یا اس سے بہتر پیرایہ میں فی البدیہہ بیان کی یہاں تک کہ وہ چپ ہوگئے انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے جو خوبیاں بیان کی ہیں تم ان کے اہل ہو لیکن یہ امر (خلافت) صرف قریش کے لئے مخصوص ہے یہ لوگ عرب میں نسب اور گھر کے لحاظ سے اوسط ہیں میں تمہارے لئے ان دو آدمیوں میں ایک سے راضی ہوں ان دونوں میں کسی سے بیعت کرلو، چنانچہ انہوں نے میرا اور ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ پکڑا اور وہ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے (عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں) مجھے اس کے علاوہ ان کی کوئی بات ناگوار نہ ہوئی، اللہ کی قسم میں اس جماعت کی سرداری پر جس میں ابوبکر ہوں اپنی گردن اڑائے جانے کو ترجیح دیتا تھا، یا اللہ مگر میرا یہ نفس موت کے وقت مجھے اس چیز کو اچھا کر دکھائے جس کو میں اب نہیں پاتا ہوں انصار میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ ہم اس کی جڑ اور اس کے بڑے ستون ہیں اے قریش ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے شوروغل زیادہ ہوا اور آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ مجھے اختلاف کا خوف ہوا میں نے کہا اے ابوبکر اپنا ہاتھ بڑھائیے، انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان سے بیعت کی اور مہاجرین نے بھی بیعت کی پھر انصار نے ان سے بیعت کی اور ہم سعد بن عبادہ پر غالب آگئے، کسی کہنے والے نے کہا کہ تم نے سعد بن عبادہ کو قتل کر ڈالا، میں نے کہا اللہ نے سعد بن عبادہ کو قتل کیا، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جو معاملہ ہوا تھا ہمیں اندیشہ ہوا کہ اگر ہم قوم سے جدا ہوئے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت نہ کی تو یہ لوگ ہمارے پیچھے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلیں گے اس صورت میں یا تو ہم کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کرلیں جو ہماری مرضی کے خلاف ہوتا یا ہم اس کی مخالفت کرتے اور فساد ہوتا، جس نے مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی سے بیعت کی اس کی پیروی نہ کی جائے نہ اور اس کی جس نے بیعت کی اس خوف کہ وہ قتل کئے جائیں گے۔

Narrated Ibn 'Abbas:
I used to teach (the Qur'an to) some people of the Muhajirln (emigrants), among whom there was 'Abdur Rahman bin 'Auf. While I was in his house at Mina, and he was with 'Umar bin Al-Khattab during 'Umar's last Hajj, Abdur-Rahman came to me and said, "Would that you had seen the man who came today to the Chief of the Believers ('Umar), saying, 'O Chief of the Believers! What do you think about so-and-so who says, 'If 'Umar should die, I will give the pledge of allegiance to such-and-such person, as by Allah, the pledge of allegiance to Abu Bakr was nothing but a prompt sudden action which got established afterwards.' 'Umar became angry and then said, 'Allah willing, I will stand before the people tonight and warn them against those people who want to deprive the others of their rights (the question of rulership)."
'Abdur-Rahman said, "I said, 'O Chief of the believers! Do not do that, for the season of Hajj gathers the riff-raff and the rubble, and it will be they who will gather around you when you stand to address the people. And I am afraid that you will get up and say something, and some people will spread your statement and may not say what you have actually said and may not understand its meaning, and may interpret it incorrectly, so you should wait till you reach Medina, as it is the place of emigration and the place of Prophet's Traditions, and there you can come in touch with the learned and noble people, and tell them your ideas with confidence; and the learned people will understand your statement and put it in its proper place.' On that, 'Umar said, 'By Allah! Allah willing, I will do this in the first speech I will deliver before the people in Medina."
Ibn Abbas added: We reached Medina by the end of the month of Dhul-Hijja, and when it was Friday, we went quickly (to the mosque) as soon as the sun had declined, and I saw Sa'id bin Zaid bin 'Amr bin Nufail sitting at the corner of the pulpit, and I too sat close to him so that my knee was touching his knee, and after a short while 'Umar bin Al-Khattab came out, and when I saw him coming towards us, I said to Said bin Zaid bin 'Amr bin Nufail "Today 'Umar will say such a thing as he has never said since he was chosen as Caliph." Said denied my statement with astonishment and said, "What thing do you expect 'Umar to say the like of which he has never said before?"
In the meantime, 'Umar sat on the pulpit and when the callmakers for the prayer had finished their call, 'Umar stood up, and having glorified and praised Allah as He deserved, he said, "Now then, I am going to tell you something which (Allah) has written for me to say. I do not know; perhaps it portends my death, so whoever understands and remembers it, must narrate it to the others wherever his mount takes him, but if somebody is afraid that he does not understand it, then it is unlawful for him to tell lies about me. Allah sent Muhammad with the Truth and revealed the Holy Book to him, and among what Allah revealed, was the Verse of the Rajam (the stoning of married person (male & female) who commits illegal sexual intercourse, and we did recite this Verse and understood and memorized it. Allah's Apostle did carry out the punishment of stoning and so did we after him.
I am afraid that after a long time has passed, somebody will say, 'By Allah, we do not find the Verse of the Rajam in Allah's Book,' and thus they will go astray by leaving an obligation which Allah has revealed. And the punishment of the Rajam is to be inflicted to any married person (male & female), who commits illegal sexual intercourse, if the required evidence is available or there is conception or confession. And then we used to recite among the Verses in Allah's Book: 'O people! Do not claim to be the offspring of other than your fathers, as it is disbelief (unthankfulness) on your part that you claim to be the offspring of other than your real father.' Then Allah's Apostle said, 'Do not praise me excessively as Jesus, son of Marry was praised, but call me Allah's Slave and His Apostles.' (O people!) I have been informed that a speaker amongst you says, 'By Allah, if 'Umar should die, I will give the pledge of allegiance to such-and-such person.' One should not deceive oneself by saying that the pledge of allegiance given to Abu Bakr was given suddenly and it was successful. No doubt, it was like that, but Allah saved (the people) from its evil, and there is none among you who has the qualities of Abu Bakr. Remember that whoever gives the pledge of allegiance to anybody among you without consulting the other Muslims, neither that person, nor the person to whom the pledge of allegiance was given, are to be supported, lest they both should be killed.
And no doubt after the death of the Prophet we were informed that the Ansar disagreed with us and gathered in the shed of Bani Sa'da. 'Ali and Zubair and whoever was with them, opposed us, while the emigrants gathered with Abu Bakr. I said to Abu Bakr, 'Let's go to these Ansari brothers of ours.' So we set out seeking them, and when we approached them, two pious men of theirs met us and informed us of the final decision of the Ansar, and said, 'O group of Muhajirin (emigrants) ! Where are you going?' We replied, 'We are going to these Ansari brothers of ours.' They said to us, 'You shouldn't go near them. Carry out whatever we have already decided.' I said, 'By Allah, we will go to them.' And so we proceeded until we reached them at the shed of Bani Sa'da. Behold! There was a man sitting amongst them and wrapped in something. I asked, 'Who is that man?' They said, 'He is Sa'd bin 'Ubada.' I asked, 'What is wrong with him?' They said, 'He is sick.' After we sat for a while, the Ansar's speaker said, 'None has the right to be worshipped but Allah,' and praising Allah as He deserved, he added, 'To proceed, we are Allah's Ansar (helpers) and the majority of the Muslim army, while you, the emigrants, are a small group and some people among you came with the intention of preventing us from practicing this matter (of caliphate) and depriving us of it.'
When the speaker had finished, I intended to speak as I had prepared a speech which I liked and which I wanted to deliver in the presence of Abu Bakr, and I used to avoid provoking him. So, when I wanted to speak, Abu Bakr said, 'Wait a while.' I disliked to make him angry. So Abu Bakr himself gave a speech, and he was wiser and more patient than I. By Allah, he never missed a sentence that I liked in my own prepared speech, but he said the like of it or better than it spontaneously. After a pause he said, 'O Ansar! You deserve all (the qualities that you have attributed to yourselves, but this question (of Caliphate) is only for the Quraish as they are the best of the Arabs as regards descent and home, and I am pleased to suggest that you choose either of these two men, so take the oath of allegiance to either of them as you wish. And then Abu Bakr held my hand and Abu Ubada bin Abdullah's hand who was sitting amongst us. I hated nothing of what he had said except that proposal, for by Allah, I would rather have my neck chopped off as expiator for a sin than become the ruler of a nation, one of whose members is Abu Bakr, unless at the time of my death my own-self suggests something I don't feel at present.'
And then one of the Ansar said, 'I am the pillar on which the camel with a skin disease (eczema) rubs itself to satisfy the itching (i.e., I am a noble), and I am as a high class palm tree! O Quraish. There should be one ruler from us and one from you.'
Then there was a hue and cry among the gathering and their voices rose so that I was afraid there might be great disagreement, so I said, 'O Abu Bakr! Hold your hand out.' He held his hand out and I pledged allegiance to him, and then all the emigrants gave the Pledge of allegiance and so did the Ansar afterwards. And so we became victorious over Sa'd bin Ubada (whom Al-Ansar wanted to make a ruler). One of the Ansar said, 'You have killed Sa'd bin Ubada.' I replied, 'Allah has killed Sa'd bin Ubada.' Umar added, "By Allah, apart from the great tragedy that had happened to us (i.e. the death of the Prophet), there was no greater problem than the allegiance pledged to Abu Bakr because we were afraid that if we left the people, they might give the Pledge of allegiance after us to one of their men, in which case we would have given them our consent for something against our real wish, or would have opposed them and caused great trouble. So if any person gives the Pledge of allegiance to somebody (to become a Caliph) without consulting the other Muslims, then the one he has selected should not be granted allegiance, lest both of them should be killed."

یہ حدیث شیئر کریں