صحیح مسلم ۔ جلد سوم ۔ سلام کرنے کا بیان ۔ حدیث 1171

علیہ السلام عورتوں کے لئے قضائے حاجت انسانی کے لئے نکلنے کی اجازت کے بیان میں

راوی: ابوبکر بن ابی شیبہ , ابوکریب ابواسامہ ہشام عائشہ ، سودہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ لِتَقْضِيَ حَاجَتَهَا وَکَانَتْ امْرَأَةً جَسِيمَةً تَفْرَعُ النِّسَائَ جِسْمًا لَا تَخْفَی عَلَی مَنْ يَعْرِفُهَا فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا سَوْدَةُ وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا فَانْظُرِي کَيْفَ تَخْرُجِينَ قَالَتْ فَانْکَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّی وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ فَدَخَلَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي خَرَجْتُ فَقَالَ لِي عُمَرُ کَذَا وَکَذَا قَالَتْ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَکُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِکُنَّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ يَفْرَعُ النِّسَائَ جِسْمُهَا زَادَ أَبُو بَکْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ هِشَامٌ يَعْنِي الْبَرَازَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابواسامہ ہشام حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پردہ دیئے جانے کے بعد قضائے حاجت کے لئے باہر نکلیں اور وہ قد آور عورتوں میں بڑے قد والی عورت تھیں کہ پہچاننے والے سے پوشیدہ نہ رہ سکتی تھیں انہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب نے دیکھا تو کہا اے سودہ اللہ کی قسم تم ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں اس لئے آپ غور کریں کہ آپ باہر کیسے نکلیں گی سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ وہ یہ سنتے ہی واپس لوٹ آئیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے گھر میں شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہڈی تھی وہ حاضر ہوئیں اور عرض کیا اے اللہ کے رسول میں باہر نکلی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے اس اس طرح کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی گئی پھر وحی منقطع ہوئی اور ہڈی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں رہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تحقیق تمہیں اپنی حاجت کے لئے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

A'isha reported that Sauda (Allah be pleased with her) went out (in the fields) in order to answer the call of nature even after the time when veil had been prescribed for women. She had been a bulky lady, significant in height amongst the women, and she could not conceal herself from him who had known her. 'Umar b. Khattab saw her and said: Sauda, by Allah, you cannot conceal from us. Therefore, be careful when you go out. She ('A'isha) said: She turned back. Allah's Messenger (may peace be upon him) was at that time in my house having his evening meal and there was a bone in his hand. She (Sauda) cline and said: Allah's Messenger. I went out and 'Umar said to me so and so. She ('A'isha) reported: There came the revelation to him and then it was over; the bone was then in his hand and he had not thrown it and he said: "Permission has been granted to you that you may go out for your needs."

یہ حدیث شیئر کریں