سنن ابوداؤد ۔ جلد سوم ۔ سزاؤں کا بیان ۔ حدیث 986

حد کے ساقط ہونے کے لئے حاکم کی تلقین

راوی: موسی بن اسماعیل , حماد , اسحاق عبداللہ , ابن ابوطلحہ , منذر , مولی ابوذر , ابوامیہ مخزومی

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَی أَبِي ذَرٍّ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ قَدْ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا إِخَالُکَ سَرَقْتَ قَالَ بَلَی فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ وَجِيئَ بِهِ فَقَالَ اسْتَغْفِرْ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ فَقَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ ثَلَاثًا قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

موسی بن اسماعیل، حماد، اسحاق عبد اللہ، ابن ابوطلحہ، منذر، مولیٰ ابوذر، حضرت ابوامیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مخزومی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف بھی کیا لیکن اس کے پاس کچھ سامان برآمد نہیں ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تجھ سے یہ گمان نہیں کرتا کہ تو نے چوری کی ہوگی کہنے لگا کہ کیوں نہیں (میں نے چوری کی ہے) اس نے دو مرتبہ یا تین مرتبہ اپنی بات کا اعادہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹا گیا اور آپ کے سامنے لایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ سے استغفار کر اور توبہ کر اس نے کہا کہ میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ فرمایا کہ اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی عمرو بن عاصم نے ہمام سے اور انہوں نے اسحاق بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابوامیہ انصاری سے روایت کیا ہے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔

Narrated AbuUmayyah al-Makhzumi:
A thief who had accepted (having committed theft) was brought to the Prophet (peace_be_upon_him), but no good were found with him. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him), said to him: I do not think you have stolen. He said: Yes, I have. He repeated it twice or thrice. So he gave orders. His hand was cut off and he was then brought to him. He said: Ask Allah's pardon and turn to Him in repentance. He said: I ask Allah's pardon and turn to Him in repentance. He (the Prophet) then said: O Allah, accept his repentance.

یہ حدیث شیئر کریں