سنن نسائی ۔ جلد اول ۔ نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث ۔ حدیث 1224

دوران نماز گفتگو کرنے سے متعلق

راوی: اسماعیل بن مسعود , یحیی بن سعید , اسماعیل بن ابوخالد , حارث بن شبیل , ابوعمرو الشیبانی , زید بن ارقم

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ کَانَ الرَّجُلُ يُکَلِّمُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلَاةِ بِالْحَاجَةِ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ فَأُمِرْنَا بِالسُّکُوتِ

اسماعیل بن مسعود، یحیی بن سعید، اسماعیل بن ابوخالد، حارث بن شبیل، ابوعمرو الشیبانی، زید بن ارقم سے روایت ہے کہ پہلے ہر ایک آدمی اپنے ملنے والے شخص سے حالت نماز میں گفتگو کیا کرتا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پس جس وقت یہ آیت کریمہ" حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ "نازل ہوئی یعنی نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیان والی نماز کی اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور اللہ کے لئے کھڑے رہو خاموشی کے ساتھ چنانچہ اس دن سے ہم لوگوں کو حکم ہوا خاموش رہنے کا ۔

It was narrated that Ibn Ma’sud said: “We used to greet the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم with Salam and he would return our Salam, until we came back from the land of Ethiopia. I greeted him with Salam and he did not return my greeting, and I started to wonder why. So I sat down; when he finished praying, he said: ‘Allah decrees what He wills, and He has decreed that we should not speak during the prayer.” (Hasan)

یہ حدیث شیئر کریں