سنن نسائی ۔ جلد اول ۔ عیدین سے متعلقہ احادیث کی کتاب ۔ حدیث 1591

خطبہ کے بعد خواتین کو نصیحت اور صدقے کی ترغیب

راوی: عمروبن علی , یحیی , سفیان , عبدالرحمن بن عباس , عبداللہ ابن عباس

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ رَجُلٌ شَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا مَکَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ أَتَی الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ کَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّی ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَی النِّسَائَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَکَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُهْوِي بِيَدِهَا إِلَی حَلَقِهَا تُلْقِي فِي ثَوْبِ بِلَالٍ

عمروبن علی، یحیی، سفیان، عبدالرحمن بن عباس، عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے ان سے دریافت کیا کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز عید کے لئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے؟ فرمایا ہاں! اگر میرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک کوئی مقام نہ ہوتا تو میں نہیں جاسکتا تھا۔ (کیونکہ میں اس وقت بہت چھوٹا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثیر بن صلت کے مکان کے پاس موجود اس نشان کے قریب آئے۔ (اشارے سے بتایا یا سمجھایا) نماز ادا کی پھر خطبہ ارشاد فرمایا پھر خواتین کے پاس گئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور آخرت کی یاد دلائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا تو خواتین اپنا ہاتھ گلے کی طرف لے جاتیں (اور زیور اتار کر) بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں ڈالتی جاتیں۔

It was narrated that Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم addressed us on the day of Al-Adha and went to two black and white rams and slaughtered them.” (Sahih)

یہ حدیث شیئر کریں