جامع ترمذی ۔ جلد اول ۔ فرائض کے ابواب ۔ حدیث 2197

بہنوں کی میراث

راوی: فضل بن صباح بغدادی , سفیان بن عیینہ , محمد بن منکدر , جابر بن عبداللہ

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَغْدَادِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَجَدَنِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَأَتَی وَمَعَهُ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَهُمَا مَاشِيَانِ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي أَوْ کَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي فَلَمْ يُجِبْنِي شَيْئًا وَکَانَ لَهُ تِسْعُ أَخَوَاتٍ حَتَّی نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ يَسْتَفْتُونَکَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيکُمْ فِي الْکَلَالَةِ الْآيَةَ قَالَ جَابِرٌ فِيَّ نَزَلَتْ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

فضل بن صباح بغدادی، سفیان بن عیینہ، محمد بن منکدر، جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ سے سنا کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے اور مجھے بے ہوش پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور دونوں پیدل چل کر آئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا بقیہ پانی مجھ پر ڈال دیا۔ مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنا مال کس طرح تقسیم کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ جابر کی نو بہنیں تھیں۔ یہاں تک کہ میراث کی یہ آیت نازل ہوئی (يَسْتَفْتُوْنَكَ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِي الْكَلٰلَة) 4۔ النساء : 176) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے حق میں نازل ہوئی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Muhammad ibn Munkadir narrated, I heard from Jabir ibn Abdullah (RA) that he said when I fell sick, Allah’s Messenger (SAW) visited me and found me unconscious. He came to me and Abu Bakr (RA) was with him. They had come on foot. Allah’s Messenger (SAW) performed ablution and poured the water from his ablution. I regained consciousness and said to him, “O Messenger of Allah, how may I divide my property? “ Or, I said, what should I do with my property? He did not give me any reply.” The narrator said that Jabir had nine sisters. Then the verse of inheritance was revealed. Jabir said, ‘This was revealed concerning me.” The verse: They ask you for a pronouncement say Allah pronounces to you concerning (the inheritance of) a kalalah (who has no parents and no child (4:126) to the end of the verse.

.

[Bukhari 7309, Muslim 1616, Ibn Majah 2728, Abu Dawud 2886, Ahmed 14190]

——————————————————————————–

یہ حدیث شیئر کریں