جامع ترمذی ۔ جلد اول ۔ روزوں کے متعلق ابواب ۔ حدیث 668

شک کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے

راوی: ابوسعید عبداللہ بن سعید اشج , ابوخالد احمر , عمرو بن قیس , ابواسحاق صلہ بن زفر

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ فَقَالَ کُلُوا فَتَنَحَّی بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عَمَّارٌ مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يَشُکُّ فِيهِ النَّاسُ فَقَدْ عَصَی أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَمَّارٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ التَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ کَرِهُوا أَنْ يَصُومَ الرَّجُلُ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَکُّ فِيهِ وَرَأَی أَکْثَرُهُمْ إِنْ صَامَهُ فَکَانَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ أَنْ يَقْضِيَ يَوْمًا مَکَانَهُ

ابوسعید عبداللہ بن سعید اشج، ابوخالد احمر، عمرو بن قیس، ابواسحاق صلہ بن زفر فرماتے ہیں کہ ہم عمار بن یاسر کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی عمار نے کہا کھاؤ پس کچھ لوگ ایک طرف ہوگئے اور کہنے لگے کہ ہم روزے سے ہیں عمار نے فرمایا جس نے شک کے دن روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی اس باب میں ابوہریرہ اور انس سے بھی روایت ہے امام ابوعیسٰی فرماتے ہیں حدیث عمار حسن صحیح ہے اور اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے جن میں صحابہ تابعین وغیرہ شامل ہیں سفیان ثوری مالک بن انس عبداللہ بن مبارک شافعی احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے کہ شک کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے بعض حضرات کہتے ہیں کہ اگر کسی نے اس دن روزہ رکھ لیا پھر اسے معلوم ہوا کہ وہ دن واقعی رمضان کا دن تھا تو وہ روزے کی قضا کرے وہ روزہ اس کے لئے کافی نہیں

Silah ibn Zufar narrated that they were with Ammar ibn Yasir when a roasted sheep was brought. So he said, “Eat”. one of the people went aside, saying, “I am fasting”. So Ammar said, “He who fasts on the day about which there is doubt has, indeed, disobeyed Abul Qasim”.

[Abu Dawud 2334, Nisai 2187, Ibn e Majah 1645]

——————————————————————————–

یہ حدیث شیئر کریں