جامع ترمذی ۔ جلد دوم ۔ فضائل قرآن کا بیان۔ ۔ حدیث 808

سورت آل عمران کی فضیلت کے متعلق

راوی: محمد بن اسماعیل , ہشام بن اسماعیل ابوعبدالملک عطار , محمد بن شعیب , ابراہیم بن سلیمان , ولید بن عبدالرحمن , جبیر بن نفیر , نواس بن سمعان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَعِيلَ أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَطَّارِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْتِي الْقُرْآنُ وَأَهْلُهُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ قَالَ نَوَّاسٌ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ قَالَ تَأْتِيَانِ كَأَنَّهُمَا غَيَابَتَانِ وَبَيْنَهُمَا شَرْقٌ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ سَوْدَاوَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا ظُلَّةٌ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُجَادِلَانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا وَفِي الْبَاب عَنْ بُرَيْدَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ قِرَاءَتِهِ كَذَا فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنْ الْأَحَادِيثِ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَفِي حَدِيثِ النَّوَّاسِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَدُلُّ عَلَى مَا فَسَّرُوا إِذْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَفِي هَذَا دَلَالَةٌ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ الْعَمَلِ

محمد بن اسماعیل، ہشام بن اسماعیل ابوعبدالملک عطار، محمد بن شعیب، ابراہیم بن سلیمان، ولید بن عبدالرحمن، جبیر بن نفیر، حضرت نو اس بن سمعان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے دن) قرآن اور اہل قرآن جو دنیا میں اس پر عمل کرتے تھے اس طرح آئیں گے کہ آگے سورت بقرہ اور پھر سورت آل عمران ہوگی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تین مثالیں بیان فرمائیں۔ میں اس کے بعد انہیں کبھی نہیں بھولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ اس طرح آئیں گی گویا کہ وہ دو چھتریاں ہیں اور ان کے درمیان ایک روشنی ہے۔ یا اس طرح آئیں گی جیسے دو سیاہ بادل ہیں یا صف باندھے ہوئے پرندوں کی مانند اپنے ساتھی (یعنی پڑھنے والے) کی طرف سے شفاعت کرتے ہوئے آئیں گی۔ اس باب میں حضرت بریدہ اور ابوامامہ سے بھی روایت ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے اور بعض علماء کے نزدیک اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ سورتوں کے آنے سے مراد ان کا ثواب ہے۔ بعض اہل علم اس حدیث اور اس سے مشابہ احادیث کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔ حضرت نو اس کی حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کے آنے سے مراد اس پر عمل کرنے والوں کے اعمال کا اجر و ثواب ہے۔

Sayyidina Nawwas ibn Sam’an (RA) reported that the Prophet (SAW) said, “The Qur’an and its people who had abided by it in the world will come, led by surah al-Baqarah and Aali Imran. Allah’s Messenger (SAW) then coined for them three examples that Nawwas said he never fogot after that. He said, “They will come as though they were two canopies with light between them, or as though they were two black clouds, or as though they were flock of birds in rows, pleading for their companion (who had recited them).”

[Muslim 804,Ahmed 22208]

Muhammad ibn Isma’il reported from Humaydi, from Sufyan ibn Uyaynah in explaiation of the hadith of Adbullah Ibn Mas’ud (RA) (RA) Allah has not created in the heavens or the earth anything mightier than ayat ul-kursi (2:255) that Sufyan said,” ayat ui-kursi is Allah’s words and the words of Allah, are mightier than Allah’s creation of heaven and earth.

——————————————————————————–

یہ حدیث شیئر کریں