موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ کتاب نکاح کے بیان میں ۔ حدیث 1030

نکاح کی مختلف حدیثوں کا بیان

راوی:

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُ تَزَوَّجَ بِنْتَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ فَکَانَتْ عِنْدَهُ حَتَّی کَبِرَتْ فَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا فَتَاةً شَابَّةً فَآثَرَ الشَّابَّةَ عَلَيْهَا فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّی إِذَا کَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَطَلَّقَهَا وَاحِدَةً ثُمَّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَقَالَ مَا شِئْتِ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ فَإِنْ شِئْتِ اسْتَقْرَرْتِ عَلَی مَا تَرَيْنَ مِنْ الْأُثْرَةِ وَإِنْ شِئْتِ فَارَقْتُکِ قَالَتْ بَلْ أَسْتَقِرُّ عَلَی الْأُثْرَةِ فَأَمْسَکَهَا عَلَی ذَلِکَ وَلَمْ يَرَ رَافِعٌ عَلَيْهِ إِثْمًا حِينَ قَرَّتْ عِنْدَهُ عَلَی الْأُثْرَةِ

رافع بن خدیج نے محمد بن مسلمہ انصاری کی بیٹی سے نکاح کیا وہ ان کے پاس رہیں جب بڑھیاں ہوئیں تو رافع نے ایک جوان عورت سے نکاح کیا تو اس کی طرف زیادہ مائل ہوئے تو بڑھیا عورت نے طلاق مانگی محمد بن مسلمہ نے ایک طلاق دے دی پھر جب عدت اس کی گرزنے لگی رجعت کرلی اور جوان عورت کی طرف مائل رہے پھر جب عدت گرنے لگی رجعت کرلی اور جوان عورت کی طرف مائل رہے بڑھیا نے پھر طلاق مانگی تب رافع بن خدیج نے کہا اب تجھے کیا منظور ہے ایک طلاق اور رہ گئی ہے اگر تو اس حال میں میرے پاس رہنا چاہتی ہے تو رہ اور اگر نہیں رہ سکتی تو میں تجھے چھوڑ دوں اس نے کہا مجھے اسی حال میں رہنا منظور ہے رافع نے اس کو رکھ لیا اور اپنے اوپر کچھ گناہ نہیں سمجھا۔

یہ حدیث شیئر کریں