موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ کتاب عتق اور ولاء کے بیان میں ۔ حدیث 1166

جب غلام آزاد ہو تو ولا اپنی طرف کھینچ لیتا ہے ۔

راوی:

عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ اشْتَرَی عَبْدًا فَأَعْتَقَهُ وَلِذَلِکَ الْعَبْدِ بَنُونَ مِنْ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ فَلَمَّا أَعْتَقَهُ الزُّبَيْرُ قَالَ هُمْ مَوَالِيَّ وَقَالَ مَوَالِي أُمِّهِمْ بَلْ هُمْ مَوَالِينَا فَاخْتَصَمُوا إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَضَی عُثْمَانُ لِلزُّبَيْرِ بِوَلَائِهِمْ
و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ سُئِلَ عَنْ عَبْدٍ لَهُ وَلَدٌ مِنْ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ لِمَنْ وَلَاؤُهُمْ فَقَالَ سَعِيدٌ إِنْ مَاتَ أَبُوهُمْ وَهُوَ عَبْدٌ لَمْ يُعْتَقْ فَوَلَاؤُهُمْ لِمَوَالِي أُمِّهِمْ قَالَ مَالِك وَمَثَلُ ذَلِكَ وَلَدُ الْمُلَاعَنَةِ مِنْ الْمَوَالِي يُنْسَبُ إِلَى مَوَالِي أُمِّهِ فَيَكُونُونَ هُمْ مَوَالِيَهُ إِنْ مَاتَ وَرِثُوهُ وَإِنْ جَرَّ جَرِيرَةً عَقَلُوا عَنْهُ فَإِنْ اعْتَرَفَ بِهِ أَبُوهُ أُلْحِقَ بِهِ وَصَارَ وَلَاؤُهُ إِلَى مَوَالِي أَبِيهِ وَكَانَ مِيرَاثُهُ لَهُمْ وَعَقْلُهُ عَلَيْهِمْ وَيُجْلَدُ أَبُوهُ الْحَدَّ قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ الْمَرْأَةُ الْمُلَاعِنَةُ مِنْ الْعَرَبِ إِذَا اعْتَرَفَ زَوْجُهَا الَّذِي لَاعَنَهَا بِوَلَدِهَا صَارَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْمَنْزِلَةِ إِلَّا أَنَّ بَقِيَّةَ مِيرَاثِهِ بَعْدَ مِيرَاثِ أُمِّهِ وَإِخْوَتِهِ لِأُمِّهِ لِعَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ مَا لَمْ يُلْحَقْ بِأَبِيهِ وَإِنَّمَا وَرَّثَ وَلَدُ الْمُلَاعَنَةِ الْمُوَالَاةَ مَوَالِيَ أُمِّهِ قَبْلَ أَنْ يَعْتَرِفَ بِهِ أَبُوهُ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُ نَسَبٌ وَلَا عَصَبَةٌ فَلَمَّا ثَبَتَ نَسَبُهُ صَارَ إِلَى عَصَبَتِهِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي وَلَدِ الْعَبْدِ مِنْ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ وَأَبُو الْعَبْدِ حُرٌّ أَنَّ الْجَدَّ أَبَا الْعَبْدِ يَجُرُّ وَلَاءَ وَلَدِ ابْنِهِ الْأَحْرَارِ مِنْ امْرَأَةٍ حُرَّةٍ يَرِثُهُمْ مَا دَامَ أَبُوهُمْ عَبْدًا فَإِنْ عَتَقَ أَبُوهُمْ رَجَعَ الْوَلَاءُ إِلَى مَوَالِيهِ وَإِنْ مَاتَ وَهُوَ عَبْدٌ كَانَ الْمِيرَاثُ وَالْوَلَاءُ لِلْجَدِّ وَإِنْ الْعَبْدُ كَانَ لَهُ ابْنَانِ حُرَّانِ فَمَاتَ أَحَدُهُمَا وَأَبُوهُ عَبْدٌ جَرَّ الْجَدُّ أَبُو الْأَبِ الْوَلَاءَ وَالْمِيرَاثَ قَالَ مَالِك فِي الْأَمَةِ تُعْتَقُ وَهِيَ حَامِلٌ وَزَوْجُهَا مَمْلُوكٌ ثُمَّ يَعْتِقُ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَوْ بَعْدَمَا تَضَعُ إِنَّ وَلَاءَ مَا كَانَ فِي بَطْنِهَا لِلَّذِي أَعْتَقَ أُمَّهُ لِأَنَّ ذَلِكَ الْوَلَدَ قَدْ كَانَ أَصَابَهُ الرِّقُّ قَبْلَ أَنْ تُعْتَقَ أُمُّهُ وَلَيْسَ هُوَ بِمَنْزِلَةِ الَّذِي تَحْمِلُ بِهِ أُمُّهُ بَعْدَ الْعَتَاقَةِ لِأَنَّ الَّذِي تَحْمِلُ بِهِ أُمُّهُ بَعْدَ الْعَتَاقَةِ إِذَا عَتَقَ أَبُوهُ جَرَّ وَلَاءَهُ قَالَ مَالِك فِي الْعَبْدِ يَسْتَأْذِنُ سَيِّدَهُ أَنْ يُعْتِقَ عَبْدًا لَهُ فَيَأْذَنَ لَهُ سَيِّدُهُ إِنَّ وَلَاءَ الْعَبْدِ الْمُعْتَقِ لِسَيِّدِ الْعَبْدِ لَا يَرْجِعُ وَلَاؤُهُ لِسَيِّدِهِ الَّذِي أَعْتَقَهُ وَإِنْ عَتَقَ

ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ زبیر بن عوان نے ایک غلام خریدا کر آزاد کیا اس غلام کی اولاد ایک آزاد عورت سے تھی جب زبیر نے غلام کو آزاد کر دیا تو زبیر نے کہا اس کی اولاد میری مولیٰ ہیں اور ان کی ماں کے لوگوں نے کہا ہمارے مولیٰ ہیں دونوں نے جھگڑا کیا حضرت عثمان کے پاس آئے آپ نے حکم کیا کہ ان کی ولا زبیر کو ملے گی ۔
سعید بن مسیب سے سوال ہوا اگر ایک غلام کا لڑکا آزاد عورت سے ہو تو اس لڑکے کی ولا کس کو ملے گی سعید نے کہا اگر اس لڑکے کا باپ غلامی کی حالت میں مر جائے تو ولا اس کی ماں کے موالی کو ملے گی ۔
کہا مالک نے مثال اس کی یہ ہے ملا عنہ عورت کا لڑکا اپنی ماں کے موالی کی طرف منسوت ہوگا اگر وہ مرجائے گا وہی اس کے وارث ہوں گے اگر جنایت کرے گا وہی دیت دیں گے پھر اس عورت کا خاوند اقرار کرلے کہ یہ میرا لڑکا ہے تو اس کی ولاء باپ کے موالی کو ملے گی وہی وارث ہوں گے وہی دیت دیں گے مگر اس کے باپ پر حد قذف پڑے گی مالک نے اسی طرح کہا اگر عورت ملاعنہ عربی ہو اور خاوند اس کے لڑکے کا اقرار کرلے کا اقرار کرلے کہ میرا لڑکا ہے تو وہ لڑکا اپنے باپ سے ملا دیا جائے گا۔ جب تک خاوند اقرار نہ کرے تو اس لڑکے کا ترکہ اس کی ماں اور اخیافی بھائی کو حصہ دے کر جو بچ رہے گا ۔ مسلمانوں کا حق ہوگا اور ملاعنہ کے لڑکے کی میراث اس کی ماں کے موالی کو اس واسطے ملتی ہے کہ جب تک اس کے خاوند نے اقرار نہیں کیا نہ اس لڑکے کا نسب ہے نہ اس کا کوئی عصبہ ہے جب خاوند نے اقرار کرلیانسب ثابت ہوگیا اپنے عصبہ سے مل جائے گا۔
کہا مالک نے جس غلام کی اولاد آزاد عورت سے ہو اور غلام کا باپ آزاد ہو و (ف) اپنے پوتے یے ولاء کا مالک ہوگا جب تک باپ غلام رہے گا جب باپ آزاد ہو جائے گا تو اس کے موالی کو ملے گی اگر باپ غلامی کی حالت میں مرجائے گا تو میراث اور ولاء دادا کو ملے گی اگر اس غلام کے دو آزاد لڑکوں میں سے ایک لڑکا مرجائے اور باپ ان کا غلام ہو تو ولاء اور میراث اس کے دادا کو ملے گی۔
کہا مالک نے حاملہ لونڈی اگر ازاد ہوجائے اور خاوند اس کا غلام ہو پھر خاوند بھی آزاد ہوجائے وضع حمل سے پہلے یا بعد تو ولاء اس بچہ کی اس کی ماں کے مولیٰ کو ملے گی کیونکہ یہ بچہ قبل آزادی کے اس کا غلام ہوگیا البتہ جو حمل اس عورت کو بعد آزادی کے ٹھہرے گا اس کی ولاء اس کے باپ کو ملے گی جب وہ آزاد کردیا جائے گا کہا مالک نے جو غلام اپنے مولیٰ کے اذن سے اپنے غلام کو آزاد کرے تو اس کی ولاء مولیٰ کو ملے گی غلام کو نہ ملے گی اگرچہ آزاد ہوجائے۔

Malik related to me from Rabia ibn Abd ar-Rahman that az-Zubayr ibn al-Awwam bought a slave and set him free. The slave had children by a free woman. When az-Zubayr freed him, he said, "They are my mawali." The man argued, "They are the mawali of their mother. Rather, they are our mawali." They took the dispute to Uthman ibn Affan, and Uthman gave a judgement that az-Zubayr had their wala'.

یہ حدیث شیئر کریں