موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ کتاب بیع کے بیان میں ۔ حدیث 1217

پھلوں اور میووں کی بیع کے مختلف مسائل کا بیان

راوی:

بَاب جَامِعِ بَيْعِ الثَّمَرِ قَالَ مَالِك مَنْ اشْتَرَى ثَمَرًا مِنْ نَخْلٍ مُسَمَّاةٍ أَوْ حَائِطٍ مُسَمًّى أَوْ لَبَنًا مِنْ غَنَمٍ مُسَمَّاةٍ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا كَانَ يُؤْخَذُ عَاجِلًا يَشْرَعُ الْمُشْتَرِي فِي أَخْذِهِ عِنْدَ دَفْعِهِ الثَّمَنَ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ رَاوِيَةِ زَيْتٍ يَبْتَاعُ مِنْهَا رَجُلٌ بِدِينَارٍ أَوْ دِينَارَيْنِ وَيُعْطِيهِ ذَهَبَهُ وَيَشْتَرِطُ عَلَيْهِ أَنْ يَكِيلَ لَهُ مِنْهَا فَهَذَا لَا بَأْسَ بِهِ فَإِنْ انْشَقَّتْ الرَّاوِيَةُ فَذَهَبَ زَيْتُهَا فَلَيْسَ لِلْمُبْتَاعِ إِلَّا ذَهَبُهُ وَلَا يَكُونُ بَيْنَهُمَا بَيْعٌ وَأَمَّا كُلُّ شَيْءٍ كَانَ حَاضِرًا يُشْتَرَى عَلَى وَجْهِهِ مِثْلُ اللَّبَنِ إِذَا حُلِبَ وَالرُّطَبِ يُسْتَجْنَى فَيَأْخُذُ الْمُبْتَاعُ يَوْمًا بِيَوْمٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ فَإِنْ فَنِيَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَ الْمُشْتَرِي مَا اشْتَرَى رَدَّ عَلَيْهِ الْبَائِعُ مِنْ ذَهَبِهِ بِحِسَابِ مَا بَقِيَ لَهُ أَوْ يَأْخُذُ مِنْهُ الْمُشْتَرِي سِلْعَةً بِمَا بَقِيَ لَهُ يَتَرَاضَيَانِ عَلَيْهَا وَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يَأْخُذَهَا فَإِنْ فَارَقَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لِأَنَّهُ يَدْخُلُهُ الدَّيْنُ بِالدَّيْنِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْ الْكَالِئِ بِالْكَالِئِ فَإِنْ وَقَعَ فِي بَيْعِهِمَا أَجَلٌ فَإِنَّهُ مَكْرُوهٌ وَلَا يَحِلُّ فِيهِ تَأْخِيرٌ وَلَا نَظِرَةٌ وَلَا يَصْلُحُ إِلَّا بِصِفَةٍ مَعْلُومَةٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَيَضْمَنُ ذَلِكَ الْبَائِعُ لِلْمُبْتَاعِ وَلَا يُسَمَّى ذَلِكَ فِي حَائِطٍ بِعَيْنِهِ وَلَا فِي غَنَمٍ بِأَعْيَانِهَا و سُئِلَ مَالِك عَنْ الرَّجُلِ يَشْتَرِي مِنْ الرَّجُلِ الْحَائِطَ فِيهِ أَلْوَانٌ مِنْ النَّخْلِ مِنْ الْعَجْوَةِ وَالْكَبِيسِ وَالْعَذْقِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ أَلْوَانِ التَّمْرِ فَيَسْتَثْنِي مِنْهَا ثَمَرَ النَّخْلَةِ أَوْ النَّخَلَاتِ يَخْتَارُهَا مِنْ نَخْلِهِ فَقَالَ مَالِك ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ إِذَا صَنَعَ ذَلِكَ تَرَكَ ثَمَرَ النَّخْلَةِ مِنْ الْعَجْوَةِ وَمَكِيلَةُ ثَمَرِهَا خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَأَخَذَ مَكَانَهَا ثَمَرَ نَخْلَةٍ مِنْ الْكَبِيسِ وَمَكِيلَةُ ثَمَرِهَا عَشَرَةُ أَصْوُعٍ أَوْ أَخَذَ الْعَجْوَةَ الَّتِي فِيهَا خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَتَرَكَ الَّتِي فِيهَا عَشْرَةُ أَصْوُعٍ مِنْ الْكَبِيسِ فَكَأَنَّهُ اشْتَرَى الْعَجْوَةَ بِالْكَبِيسِ مُتَفَاضِلًا وَذَلِكَ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ بَيْنَ يَدَيْهِ صُبَرٌ مِنْ التَّمْرِ قَدْ صَبَّرَ الْعَجْوَةَ فَجَعَلَهَا خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَجَعَلَ صُبْرَةَ الْكَبِيسِ عَشَرَةَ آصُعٍ وَجَعَلَ صُبْرَةَ الْعَذْقِ اثْنَيْ عَشَرَ صَاعًا فَأَعْطَى صَاحِبَ التَّمْرِ دِينَارًا عَلَى أَنَّهُ يَخْتَارُ فَيَأْخُذُ أَيَّ تِلْكَ الصُّبَرِ شَاءَ قَالَ مَالِك فَهَذَا لَا يَصْلُحُ و سُئِلَ مَالِك عَنْ الرَّجُلِ يَشْتَرِي الرُّطَبَ مِنْ صَاحِبِ الْحَائِطِ فَيُسْلِفُهُ الدِّينَارَ مَاذَا لَهُ إِذَا ذَهَبَ رُطَبُ ذَلِكَ الْحَائِطِ قَالَ مَالِك يُحَاسِبُ صَاحِبَ الْحَائِطِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِينَارِهِ إِنْ كَانَ أَخَذَ بِثُلُثَيْ دِينَارٍ رُطَبًا أَخَذَ ثُلُثَ الدِّينَارِ الَّذِي بَقِيَ لَهُ وَإِنْ كَانَ أَخَذَ ثَلَاثَةَ أَرْبَاعِ دِينَارِهِ رُطَبًا أَخَذَ الرُّبُعَ الَّذِي بَقِيَ لَهُ أَوْ يَتَرَاضَيَانِ بَيْنَهُمَا فَيَأْخُذُ بِمَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِينَارِهِ عِنْدَ صَاحِبِ الْحَائِطِ مَا بَدَا لَهُ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يَأْخُذَ تَمْرًا أَوْ سِلْعَةً سِوَى التَّمْرِ أَخَذَهَا بِمَا فَضَلَ لَهُ فَإِنْ أَخَذَ تَمْرًا أَوْ سِلْعَةً أُخْرَى فَلَا يُفَارِقْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَ ذَلِكَ مِنْهُ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا هَذَا بِمَنْزِلَةِ أَنْ يُكْرِيَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ رَاحِلَةً بِعَيْنِهَا أَوْ يُؤَاجِرَ غُلَامَهُ الْخَيَّاطَ أَوْ النَّجَّارَ أَوْ الْعَمَّالَ لِغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ الْأَعْمَالِ أَوْ يُكْرِيَ مَسْكَنَهُ وَيَسْتَلِفَ إِجَارَةَ ذَلِكَ الْغُلَامِ أَوْ كِرَاءَ ذَلِكَ الْمَسْكَنِ أَوْ تِلْكَ الرَّاحِلَةِ ثُمَّ يَحْدُثُ فِي ذَلِكَ حَدَثٌ بِمَوْتٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ فَيَرُدُّ رَبُّ الرَّاحِلَةِ أَوْ الْعَبْدِ أَوْ الْمَسْكَنِ إِلَى الَّذِي سَلَّفَهُ مَا بَقِيَ مِنْ كِرَاءِ الرَّاحِلَةِ أَوْ إِجَارَةِ الْعَبْدِ أَوْ كِرَاءِ الْمَسْكَنِ يُحَاسِبُ صَاحِبَهُ بِمَا اسْتَوْفَى مِنْ ذَلِكَ إِنْ كَانَ اسْتَوْفَى نِصْفَ حَقِّهِ رَدَّ عَلَيْهِ النِّصْفَ الْبَاقِيَ الَّذِي لَهُ عِنْدَهُ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرَ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ يَرُدُّ إِلَيْهِ مَا بَقِيَ لَهُ قَالَ مَالِك وَلَا يَصْلُحُ التَّسْلِيفُ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذَا يُسَلَّفُ فِيهِ بِعَيْنِهِ إِلَّا أَنْ يَقْبِضَ الْمُسَلِّفُ مَا سَلَّفَ فِيهِ عِنْدَ دَفْعِهِ الذَّهَبَ إِلَى صَاحِبِهِ يَقْبِضُ الْعَبْدَ أَوْ الرَّاحِلَةَ أَوْ الْمَسْكَنَ أَوْ يَبْدَأُ فِيمَا اشْتَرَى مِنْ الرُّطَبِ فَيَأْخُذُ مِنْهُ عِنْدَ دَفْعِهِ الذَّهَبَ إِلَى صَاحِبِهِ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ تَأْخِيرٌ وَلَا أَجَلٌ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ أُسَلِّفُكَ فِي رَاحِلَتِكَ فُلَانَةَ أَرْكَبُهَا فِي الْحَجِّ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَجِّ أَجَلٌ مِنْ الزَّمَانِ أَوْ يَقُولَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الْعَبْدِ أَوْ الْمَسْكَنِ فَإِنَّهُ إِذَا صَنَعَ ذَلِكَ كَانَ إِنَّمَا يُسَلِّفُهُ ذَهَبًا عَلَى أَنَّهُ إِنْ وَجَدَ تِلْكَ الرَّاحِلَةَ صَحِيحَةً لِذَلِكَ الْأَجَلِ الَّذِي سَمَّى لَهُ فَهِيَ لَهُ بِذَلِكَ الْكِرَاءِ وَإِنْ حَدَثَ بِهَا حَدَثٌ مِنْ مَوْتٍ أَوْ غَيْرِهِ رَدَّ عَلَيْهِ ذَهَبَهُ وَكَانَتْ عَلَيْهِ عَلَى وَجْهِ السَّلَفِ عِنْدَهُ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا فَرَقَ بَيْنَ ذَلِكَ الْقَبْضُ مَنْ قَبَضَ مَا اسْتَأْجَرَ أَوْ اسْتَكْرَى فَقَدْ خَرَجَ مِنْ الْغَرَرِ وَالسَّلَفِ الَّذِي يُكْرَهُ وَأَخَذَ أَمْرًا مَعْلُومًا وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ أَوْ الْوَلِيدَةَ فَيَقْبِضَهُمَا وَيَنْقُدَ أَثْمَانَهُمَا فَإِنْ حَدَثَ بِهِمَا حَدَثٌ مِنْ عُهْدَةِ السَّنَةِ أَخَذَ ذَهَبَهُ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي ابْتَاعَ مِنْهُ فَهَذَا لَا بَأْسَ بِهِ وَبِهَذَا مَضَتْ السُّنَّةُ فِي بَيْعِ الرَّقِيقِ قَالَ مَالِك وَمَنْ اسْتَأْجَرَ عَبْدًا بِعَيْنِهِ أَوْ تَكَارَى رَاحِلَةً بِعَيْنِهَا إِلَى أَجَلٍ يَقْبِضُ الْعَبْدَ أَوْ الرَّاحِلَةَ إِلَى ذَلِكَ الْأَجَلِ فَقَدْ عَمِلَ بِمَا لَا يَصْلُحُ لَا هُوَ قَبَضَ مَا اسْتَكْرَى أَوْ اسْتَأْجَرَ وَلَا هُوَ سَلَّفَ فِي دَيْنٍ يَكُونُ ضَامِنًا عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ

کہا مالک نے جو شخص کسی معین درختوں کے پھلوں کو خریدے یا ایک باغ کے میووں کو خریدے یا معین بکریوں کے دودھ کو خریدے تو کچھ قباحت نہیں ہے بشرطیکہ خریدار قیمت ادا کرتے ہی اپنا مال وصول کرنا شروع کر دے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی روپیہ دے کر ایک کپہ میں سے کسی قدر گھی مول لے اس میں کچھ قباحت نہں ہے اگر کپہ قبل گھی لینے کے پھٹ جائے اور گھی بہہ جائے تو خریدار اپنے روپے پھیر لے گا۔
کہا مالک نے مثال اس کی یہ ہے کہ ایک شخص تین ڈھیر کھجور کے لگائے ایک عجوہ کا جو پندرہ صاع ہے اور ایک بیس کا جو دس صاع ہے اور ایک عذق کا جو بارہ صاع ہے پھر مشتری (خریدنے والا) نے کھجور والے دینار دے یا اس شرط سے کہ ان تینوں ڈھیروں مں سے جو میں چاہوں لے لوں گا تو یہ جائز نہیں ۔
کہا مالک نے اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص اپنے اونٹ یا غلام کو جو درزی یا بڑھئی یا اور کوئی کام کرتا ہو کرایہ کو دے یا مکان کرایہ پر دے اور زر کرایہ پیشگی لے لے بعد اس کے اونٹ یا غلام مر جائے اور گھر گر جائے تو اونٹ والا اسی طرح غلام یا مکان والا حساب کر کے جس قدر اجرت اس کے ذمہ پر باقی رہ گئی ہو واپس کر دے گا فرض کیجئیے کہ اگر مستاجر نے اپنا نصف حق وصول کیا تھا تو نصف اجرت اس کو واپس ملے گی۔
کہا مالک نے ان سب صورتوں میں سلف کرنا یعنی اجرت پیشگی دے دینا جب ہی درست ہے کہ اجرت دیتے ہی غلام یا اونٹ یا گھر پر قبضہ کر لے یا رطب توڑنا شروع کر دے یہ نہیں کہ اس میں دیر کرے یا کوئی میعاد ٹھہرائے۔
کہا مالک نے یہ سلف مکروہ ہے کہ کوئی شخص اونٹ کا کرایہ دے دے اونٹ والے سے یہ کہے کہ حج کے دنوں میں تیرے اونٹ پر سوار ہوں گا اور ابھی حج میں ایک عرصہ باقی ہو یا ایسا ہی غلام اور گھر میں کہے تو یہ صورت گویا اس طرح پر ہوئی کہ اگر وہ اونٹ یا غلام یا گھر اس وقت تک باقی رہے تو اسی کرایہ سے اس سے منفعت اٹھا لے اور اگر وہ اونٹ یا غلام یا لونڈی واپس کی جائے تو اپنے کرایہ کے پیسے پھیر لے۔
کہا مالک نے اگر وہ شخص کرایہ دیتے ہی اونٹ یا غلام یا گھر پر قبضہ کر لیتا تو کراہت جاتی رہتی اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص غلام یا لونڈی خرید کر اپنے قبضے میں لائے اور قیمت ان کی ادا کرے بعد اس کے کسی عیب کی وجہ سے وہ غلام یا لونڈی واپس کی جائے تو مشتری (خریدنے والا) اپنا زر ثمن بائع (بچنے والا) سے پھیر لے اور اس میں کچھ قباحت نہیں ہے ۔
کہا مالک نے جو شخص کسی معین غلام یا اونٹ کو کرایہ پر لے اور قبضے کی ایک میعاد مقرر کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ فلاں تاریخ سے میں اونٹ یا غلام کو اپنے قبضے و تصرت میں لوں گا تو یہ جائز نہیں کیونکہ نہ مستاجر نے قبضہ کیا اس اونٹ یا غلام پر نہ موجر نے ایسے دین میں سلف کی جس کا دینا مستاجر پر واجب ہے۔

Malik said, "There is no harm in buying dates from specified trees or a specified orchard or buying milk from specified sheep when the buyer starts to take them as soon as he has payed the price. That is like buying oil from a container. A man buys some of it for a dinar or two and gives his gold and stipulates that it be measured out for him. There is no harm in that. If the container breaks and the oil is wasted, the buyer has his gold back and there is no transaction between them."

یہ حدیث شیئر کریں