موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ نماز کے وقتوں کا بیان ۔ حدیث 24

ٹھیک دوپہر کے وقت نماز کی ممانعت کا بیان

راوی:

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ وَقَالَ اشْتَکَتْ النَّارُ إِلَی رَبِّهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ أَکَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ فِي کُلِّ عَامٍ نَفَسٍ فِي الشِّتَائِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیزی گرمی کی جہنم کے جوش سے ہے تو جب تیز ہو گرمی تاخیر کرو نماز میں ٹھنڈک تک اور فرمایا آپ نے شکوہ کیا آگ نے اپنے پروردگار سے اور کہا اے پروردگار میں اپنے آپ کو کھانے لگی تو اذن دیا اس کو پروردگار نے دو سانس کا ہر سانس لینے کا جاڑے میں اور سانس نکالنے کا گرمی میں ۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Scorching heat is a part of the blast of Jahannam. So, when the heat is fierce, delay the prayer until it gets cooler."
He added in explanation, "The Fire complained to its Lord and said, 'My Lord, part of me has eaten another part,' so He allowed it two breaths in every year, a breath in winter and a breath in summer."

یہ حدیث شیئر کریں