موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ کتاب القرآن ۔ حدیث 462

بعد صبح اور عصر کے نماز پڑھنے کی ممانعت

راوی:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَقُولُ لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِکُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَطْلُعُ قَرْنَاهُ مَعَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَيَغْرُبَانِ مَعَ غُرُوبِهَا وَکَانَ يَضْرِبُ النَّاسَ عَلَی تِلْکَ الصَّلَاةِ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب فرماتے تھے قصد نہ کرو نماز کا آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت کیونکہ شیطان کے دو جانب سر کے ساتھ نکلتے ہیں آفتاب کے اور ساتھ ہی ڈوبتے ہیں اور عمر مارتے تھے لوگوں کو اس وقت نماز پڑھنے پر ۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar from Abdullah ibn Umar that Umar ibn al-Khattab used to say, "Do not intend to do your prayer at either sunrise or sunset, for the horns of Shaytan rise with the rising of the sun and set with its setting."
Umar used to beat people for that kind of prayer.

یہ حدیث شیئر کریں