موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ کتاب الصیام ۔ حدیث 523

جو شخص جنب ہو اور صبح ہو جائے اسکے روزہ کا بیان

راوی:

عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ يَقُولُ كُنْتُ أَنَا وَأَبِي عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَقَالَ مَرْوَانُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَتَذْهَبَنَّ إِلَى أُمَّيْ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ فَلْتَسْأَلَنَّهُمَا عَنْ ذَلِكَ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّا كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذُكِرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَتَرْغَبُ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَا وَاللَّهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَذَكَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا فَقَالَ مَرْوَانُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَتَرْكَبَنَّ دَابَّتِي فَإِنَّهَا بِالْبَابِ فَلْتَذْهَبَنَّ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنَّهُ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَلْتُخْبِرَنَّهُ ذَلِكَ فَرَكِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَكِبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَتَحَدَّثَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَةً ثُمَّ ذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ لَا عِلْمَ لِي بِذَاكَ إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ مُخْبِرٌ

ابوبکر بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں اور میرے باپ عبدالرحمن دونوں بیٹھے مروان بن حکم کے پاس اور مروان ان دنوں میں حاکم تھے مدینہ کے تو ان سے ذکر کیا گیا کہ ابوہریرہ کہتے ہیں جو شخص جنبی ہو اور صبح ہو جائے تو اس کا روزہ نہ ہوگا مروان نے کہا قسم دیتا ہوں تم اے عبدالرحمن تم جاؤ ام المومنین حضرت عائشہ اور ام المومنین ام سلمہ کے پاس اور پوچھو ان سے یہ مسئلہ تو گئے عبدالرحمن اور گیا میں ساتھ ان کے یہاں تک کہ پہنچے ہم ام المومنین عائشہ کے پاس تو سلام کیا ان کو عبدالرحمن نے پھر کہا اے ام المومنین ہم بیٹھے تھے مروان بن حکم کے پاس ان سے ذکر ہوا کہ ابوہریرہ کہتے ہیں جس شخص کو صبح ہو جائے اور وہ جنبی ہو تو اس کا روزہ نہ ہوگا فرمایا حضرت عائشہ نے ایسا نہیں ہے جیسا کہا ابوہریرہ نے اے عبدالرحمن کیا تو منہ پھیرتا ہے اس کام سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے کہا عبدالرحمن نے نہیں قسم اللہ کی فرمایا حضرت عائشہ نے میں گواہی دیتی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ ان کو صبح ہو جاتی تھی اور وہ جنبی ہوتے تھے جماع سے نہ کہ احتلام سے پھر روزہ رکھتے اس دن کا ۔ کہا ابوبکر نے پھر نکلے ہم یہاں تک کہ پہنچے ام المومنین سلمہ کے پاس اور پوچھا ہم نے ان سے اس مسئلہ کو انہوں نے بھی یہ کہا جو حضرت عائشہ نے کہا کہا ابوبکر نے پھر نکلے ہم اور آئے مروان بن حکم کے پاس ان سے عبدالرحمن نے بیان کیا قول حضرت عائشہ اور ام سلمہ کا تو کہا مروان نے قسم دیتا ہوں میں تم کو اے ابومحمد تم سوار ہو کر جاؤ میرے جانور پر جو دروازہ پر ہے ابوہریرہ کے پاس کیونکہ وہ اپنی زمین میں ہے عقیق میں اور اطلاع کرو ان کو اس مسئلہ سے تو سوار ہوئے عبدالرحمن اور میں بھی ان کے ساتھ سوار ہوا یہاں تک کہ آئے ہم ابوہریرہ کے پاس تو ایک ساعت تک باتیں کیں ان سے عبدالرحمن نے پھر بیان کیا ان سے اس مسئلہ کو تو ابوہریرہ نے کہا مجھے علم نہیں تھا اس مسئلہ کا بلکہ ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا تھا ۔

Yahya related to me from Malik from Sumayy, the mawla of Abu Bakr ibn Abd ar-Rahman ibn al-Harith ibn Hisham that he heard Abu Bakr ibn Abd ar-Rahman ibn al-Harith ibn Hisham say, "My father and I were with Marwan ibn al Hakam at the time when he was amir of Madina, and someone mentioned to him that Abu Hurayra used to say, 'If someone begins the morning junub, he has broken the fast for that day.' Marwan said, 'I swear to you, Abdar-Rahman, you must go to the two umm al muminin, A'isha and Umm Salama, and ask them about it.'
''Abd ar-Rahman went to visit A'isha and I accompanied him. He greeted her and then said, 'Umm al-muminin, we were with Marwan ibn al Hakam and someone mentioned to him that Abu Hurayra used to say that if some one had begun the morning junub, he had broken the fast for that day.' A'isha said, 'It is not as Abu Hurayra says Abd ar-Rahman. Do you dislike what the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to do?', and Abd ar-Rahman said, 'No, by Allah.' A'isha said, 'I bear witness that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to get up in the morning junub from intercourse, not a dream, and would then fast for that day.' "
He continued, "Then we went and visited Umm Salama, and Abd ar-Rahman asked her about the same matter and she said the same as A'isha had said. Then we went off until we came to Marwan ibn al-Hakam Abd ar-Rahman told him what they had both said and Marwan said, 'I swear to you, Abu Muhammad, you must use the mount which is at the door, and go to Abu Hurayra, who is on his land at al Aqiq, and tell him this.' So Abd ar-Rahman rode off, and I went with him, until we came to Abu Hurayra. Abd ar-Rahman talked with him for a while, and then mentioned the matter to him, and Abu Hurayra said, 'I don't know anything about it. I was just told that by someone.'"

یہ حدیث شیئر کریں