مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ ایمان کا بیان ۔ حدیث 39

جنت کی کنجی

راوی:

وَعَنْ وَھْبِ بْنِ مُنَبِۃٍص قِےْلَ لَہُ اَلَےْسَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مِفْتَاحُ الْجَنَّۃِ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لَّےْسَ مِفْتَاحٌ اِلَّا وَلَہُ اَسْنَانٌ فَاِنْ جِئْتَ بِمِفْتَاحٍ لَّہُ اَسْنَانٌ فُتِحَ لَکَ۔(بخاری فی ترجمۃ باب)

" اور حضرت وہب بن منبہ ( وہب بن منبہ تابعی ہیں کنیت ابوعبداللہ ہے۔ ١١٤ھ میں آپ کی وفات ہوئی ) سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے سوال کیا، کیا لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی نہیں ہے؟ وہب نے کہا بے شک، لیکن کنجی میں دندانے بھی ضروری ہیں پس اگر تم ایسی کنجی لے کر آئے جس میں دندانے موجود ہیں تو (یقینا) اس سے جنت کے دروازے کھل جائیں گے ورنہ تمہارے جنت کے دروازے نہیں کھلیں گے۔" (بخاری ترجمۃ الباب)

تشریح
حضرت وہب بن منبہ اپنی مجلس و عظ و نصیحت میں لوگوں کو عمل کی اہمیت بتا رہے تھے اور اس کے ترک پر تنبیہ کر رہے تھے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک (حدیث ٣٥) کا سہارا لے کر کہا کہ آپ تو عمل کے بارے میں اس شد و مد کے ساتھ متنبہ فرما رہے ہیں حالانکہ لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی ہے یعنی جس نے صدق دل سے اللہ کی وحانیت کا اقرار کر لیا وہ جنت کا حقدار ہوگیا خواہ اس کی علمی زندگی دوسری نیکیوں اور صالح اعمال سے بھر پور ہو یا نہ ہو۔
اس پر وہب بن منبہ نے ارشاد فرمایا کہ بلا شبہ لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی ہے، لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ کنجی اس وقت کام کرتی ہے جب کہ اس میں دندانے بھی ہوں۔ اگر کسی کنجی میں دندانے نہیں ہیں تو ظاہر ہے اس سے قفل نہیں کھل سکتا، اسی طرح لاالہ الا اللہ اگر جنت کی کنجی ہے تو اس کنجی کے دندانے شریعت کے احکام و فرائض ہیں۔ پس جو آدمی شریعت کے احکام و قوانین پر عمل نہیں کرے گا تو گویا وہ آخرت میں ایسی کنجی لے کر آئے گا جس میں دندانے نہیں ہوں گے اور جب اس کی کنجی میں دندانے نہیں ہوں گے تو وہ جنت کا دروازہ کھول نہیں پائے گا۔ جنت کا دروازہ اسی صورت میں کھلے گا جب کلمہ تو حید کی صداقت کا ایمان موجود ہو، زبان سے اس ایمان کا اقرار ہو اور عملی زندگی اس ایمان کی مظہر ہو بایں طور کہ دین و شریعت کی اتباع اور فرمانبرداری ایک ایک عمل سے ظاہر ہو۔
یا پھر دندانوں سے مراد نیک اعمال ہیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب تک اعمال نیک نہ ہوں گے، جنت کے دروزے ابتدا میں نہیں کھل سکتے، ہاں بعد میں جب بد اعمالیوں کی سزا مل جائے گی اور گناہ و معصیت کے دھبے دھل جائیں گے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔

یہ حدیث شیئر کریں