مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ ایمان کا بیان ۔ حدیث 43

ایمان اور اسلام پر مرنے والا جنتی ہے

راوی:

وَعَنْ مُعَاذِبْنِ جَبَلٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ لَقِیَ اﷲَ لَا یُشْرِکُ بِہٖ شَیْأً وَیُصَلِّی الْخَمْسَ وَیَصَوْمُ رَمَضَانَ غَفِرَلَہُ قُلْتُ اَفَلَا اُبَشِّرُ ھُمْ یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ دَعْھُمْ یَعْمَلُوْا۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)

" اور حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ! جس آدمی نے اللہ کی طرف اس حال میں کوچ کیا کہ اس نے کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہرا رکھا تھا۔ پانچوں وقت کی نماز پڑھتا تھا اور رمضان کے روزے رکھتا تھا تو وہ بخش دیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کو خوش خبری سنا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو اور عمل میں لگا رہنے دو۔" (مسند احمد بن حنبل)

تشریح
اس بخشش کا تعلق گناہ صغیرہ سے ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے اس کی بھی امید ہے کہ اگر وہ چاہے گا تو کبیرہ گناہ بھی بخش دے گا۔ ویسے گناہ کبیرہ کی سزا بھگتنے کے بعد ہی بخشش اور جنت کا استحقاق ملے گا۔ اسی لئے جب حضرت معاذ ابن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس خوشخبری کو عام کرنے کی اجازت چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اسی خوشخبری پر بھروسہ کر بیٹھیں اور عمل کرنا چھوڑ دیں یا بد اعمال میں مبتلا ہو جائیں اور گناہ و معصیت کا ارتکاب کرنے لگیں اور پھر عذاب کے مستوجب بن جائیں۔
اس حدیث میں حج اور زکوۃ کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ ان فرائض کا تعلق خاص طور پر صاحب استطاعت اور مالدار لوگوں سے ہے چونکہ عمومی طور پر ہر آدمی زکوۃ و حج کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتا اس لئے صرف ان فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جن کا تعلق بلا تخصیص امیر و غریب ہر آدمی سے ہے جیسے نماز روزہ کہ اس میں امیر و غریب کسی کی تخصیص نہیں ہے یہ سب پر فرض ہیں۔

یہ حدیث شیئر کریں