مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ مستحاضہ کا بیان ۔ حدیث 525

مستحاضہ کا بیان

راوی:

عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُبَیْرِ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ اَبِی حُبَیْشٍ اَنَّھَا کَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا کَانَ دَمُ الحَیْضِ فَاِنَّہُ دَمٌ اَسْوَدُ یُعْرَفُ فَاِذَا کَانَ ذٰلِکَ فَاَمْسِکِی عَنِ الصَّلٰوۃِ فَاِذَا کَانَ الْاَخَرُ فَتَوَضَّیِ وَصَلِّی فَاِنَّمَا ھُوَ عِرْقٌ۔ (رواہ ابوداؤ و النسائی )

" حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ (تابعی ) ( حضرت عروہ زبیر بن العوام کے صاحبزادے اور عظیم المرتبت تابعی ہیں ٢٢ھ میں پیدا ہوئے ) حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش سے روایت کرتے ہیں کہ " انہیں استحاضہ کا خون آتا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ جب حیض کا خون آئے جس کی پہچان یہ ہے کہ وہ سیاہ رنگ کا ہوتا ہے تو اس وقت تم نماز پڑھنے سے رک جایا کرو اور جب استخاضہ کا خون آنے لگے (یعنی خون سیاہ رنگ کے علاوہ اور کسی رنگ کا ہو) تو وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرو کیوں کہ (یہ حیض کا نہیں بلکہ ایک رگ کا خون ہوتا ہے۔" ) ابوداؤد ، سنن نسائی)

تشریح
اس حدیث کے بارے میں اس سے پہلے حدیث کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے کہ یہ حدیث ان ائمہ کی دلیل ہے جو فرماتے ہیں کہ مستحاضہ ایام حیض کے سلسلہ میں تمیز پر عمل کرے کہ اگر خون کا رنگ گاڑھا سیاہ ہو تو اسے حیض کا خون قرار دے کر ان ایام میں نماز وغیرہ ترک کر دے اور اگر رنگ گاڑھا سیاہ نہ ہو تو پھر اسے استحاضہ کا خون سمجھے اور نماز روزہ کرتی رہے چنانچہ اسی جگہ یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہ حدیث صحیح درجے کو نہیں پہنچی اس لئے اس کو کسی مسلک کی بنیاد قرار دینا اس مسلک کی کمزروری کو ظاہر کرنے کے مترادف ہے۔
بہر حال۔ یہاں خون کے جو رنگ بتائے گئے ہیں وہ دائمی اور کلی طور پر نہیں ہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کے رنگ اکثر کے اعتبار سے بیان فرمائے ہیں کیونکہ کبھی حیض کا خون سرخ وغیرہ رنگ کا بھی ہوتا ہے حضرات حنفیہ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی وضاحت یہ کرتے ہیں کہ اگر اس حدیث کو صحیح مان بھی لیا جائے تو اس کا محمول یہ ہوگا کہ " یہ تمیز عادت کے موافق ہو۔" یعنی جس عورت کو استخاضہ لاحق ہو اور حیض میں جب خون کا رنگ سیاہ ہوگا تو اسے حیض کا خون قرار دیا جائے گا۔ لہٰذا جب اس کی عادت کے دن گزر جائیں اور ان ہی دنوں میں خون کا رنگ سیاہ بمائل سرخی وغیرہ ہو تو اس کے بعد حیض کا خون شمار نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس کی عادت کے موافق خون کا رنگ اب سیاہ نہیں رہا۔

یہ حدیث شیئر کریں