مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ مکہ میں داخل ہونے اور طواف کرنے کا بیان ۔ حدیث 1113

استلام رکن یمانی

راوی:

وعن ابن عمر قال : لم أر النبي صلى الله عليه و سلم يستلم من البيت إلا الركنين اليمانيين

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کے صرف دو رکن کا استلام کرتے دیکھا ہے جو یمن کی سمت ہیں۔ (بخاری مسلم)

تشریح
کعبہ مقدسہ کے چار رکن یعنی چار کونے ہیں ، ایک رکن تو وہ ہے جس میں حجر اسود نصب ہے، دوسرا اس کے سامنے ہے اور حقیقت میں " یمانی " اسی رکن کا نام ہے، مگر اس طرف کے دونوں ہی رکن کو تغلیبا رکن یمانی ہی کہتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دو رکن اور ہیں جن میں سے ایک تو رکن عراقی ہے اور دوسرا رکن شامی مگر ان دونوں کو رکن شامی ہی کہتے ہیں۔
جن میں رکن حجر اسود ہے اس کو دوہری فضیلت حاصل ہے ، ایک فضیلت تو اسے اس لئے حاصل ہے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بنایا ہوا ہے، اور دوسری فضیلت یوں حاصل ہے کہ اس میں حجر اسود ہے، جب کہ رکن یمانی کو صرف یہی ایک فضیلت حاصل ہے کہ اسے حضرت ابراہیم نے بنایا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ان دونوں رکن کو رکن شامی و عراقی پر فضیلت و برتری حاصل ہے۔ اسی لئے " اسلام " انہیں دونوں رکن کے ساتھ مختص ہے۔
" استلام " کے معنی ہیں " لمس کرنا یعنی چھونا " یہ چھونا خواہ ہاتھ وغیرہ کے ذریعہ ہو یا بوسہ کے ساتھ اور یا دونوں کے ساتھ لہٰذا جب یہ لفظ رکن اسود کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس سے حجر اسود کو چومنا مقصود ہے اور جب رکن یمانی کی نسبت استعمال ہوتا ہے تو اس سے رکن یمانی کو صرف چھونا مراد ہوتا ہے۔
چونکہ رکن اسود، رکن یمانی سے افضل ہے اس لئے اس کو بوسہ دیتے ہیں یا ہاتھ وغیرہ لگا کر یا کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کر کے چومتے ہیں، اور رکن یمانی کو صرف چوما جاتا ہے اس کو بوسہ نہیں دیا جاتا، بقیہ دونوں رکن یعنی شامی اور عراقی کو نہ بوسہ دیتے ہیں اور نہ ہاتھ لگاتے ہیں، چنانچہ مسئلہ یہی ہے کہ حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی اور پتھر وغیرہ کو نہ چومنا چاہئے اور نہ ہاتھ لگانا چاہئے۔

یہ حدیث شیئر کریں