مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ مکہ میں داخل ہونے اور طواف کرنے کا بیان ۔ حدیث 1130

طواف میں اضطباع سنت ہے

راوی:

وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه اعتمروا من الجعرانة فرملوا بالبيت ثلاثا وجعلوا أرديتهم تحت آباطهم ثم قذفوها على عواتقهم اليسرى . رواه أبو داود

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے جعرانہ سے کہ جو مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے عمرہ کیا، چنانچہ سب نے خانہ کعبہ کے طواف کے پہلے تین پھیروں میں رمل کیا نیز انہوں نے طواف میں اپنی چادروں کو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کاندھوں پر ڈال لیا تھا۔ (ابوداؤد)

تشریح
اضطباع پورے طواف میں سنت ہے جب کہ رمل یعنی تیز اور اکڑ کر چلنا طواف کے پہلے دو تین پھیروں میں ہوتا ہے اتنی بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ اضطباع صرف طواف کے وقت ہی مستحب ہے، طواف کے علاوہ اوقات میں مستحب نہیں ہے، نیز بعض لوگ جو ابتداء احرام ہی سے اضطباع اختیار کر لیتے ہیں اس کی بھی کوئی اصل نہیں ہے بلکہ نماز کی حالت میں یہ مکروہ ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں