مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ حرم مدینہ کا بیان ۔ حدیث 1278

حرم مدینہ کی حدود

راوی:

عن علي رضي الله عنه قال : ما كتبنا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا القرآن وما في هذه الصحيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " المدينة حرام ما بين عير إلى ثور فمن أحدث فيها حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل ذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم فمن أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل ومن والى قوما بغير إذن مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل "
وفي رواية لهما : " من ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل "

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طرف سے علاوہ قرآن اور ان باتوں کے جو اس صحیفہ میں ہیں، اور کچھ نہیں لکھا ہے ! حضرت علی نے فرمایا کہ میں نے اس صحیفہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی بھی لکھا ہے کہ مدینہ عیر اور ثور کے درمیان حرام ہے، لہٰذا جو شخص مدینہ میں بدعت پیدا کرے یعنی ایسی بات کہے یا رائج کرے جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو یا کسی بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اس شخص کے نہ (کامل طور) فرض (اعمال) قبول کئے جاتے ہیں نہ نفل! مسلمانوں کے عہد ایک ہے جس کے لئے ان کا ادنیٰ شخص بھی کوشش کر سکتا ہے لہٰذا جو شخص کسی مسلمان کے عہد کو توڑے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، نہ تو اس کے فرض قبول کئے جاتے ہیں اور نہ نفل! جو شخص اپنے ساتھوں کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے موالات (دوستی) قائم کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب آدمیوں کی لعنت ہے، نہ تو اس کے فرض قبول کئے جاتے ہیں اور نہ نفل! (بخاری ومسلم)
بخاری اور مسلم ہی کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ " جو شخص اپنے باپ کی بجائے کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت کا دعویٰ کرے (یعنی یوں کہے کہ میں زید کا بیٹا ہوں جب کہ حقیقت میں وہ بکر کا بیٹا ہو) یا اپنے مالک کی بجائے کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے (مثلاً یوں کہے کہ میں زید کا غلام یا خدمت گار ہوں جب کہ حقیقت میں وہ بکر کا غلام یا خدمت گار ہو) تو اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے نہ تو اس کے فرض قبول کئے جاتے ہیں اور نہ نفل۔

تشریح
کچھ لوگوں نے آپس میں کہا ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قرآن کریم کے علاوہ کوئی اور کتاب بطور خاص عنایت کی ہے جس کا علم اور کسی کو نہیں ہے، جب یہ بات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سنی تو اس کی تردید کی اور فرمایا کہ میں نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے صرف قرآن کریم لکھا ہے یا پھر چند احکام پر مشتمل وہ احادیث لکھی ہیں جو اس صحیفہ میں ہیں، ان کے علاوہ نہ تو میں نے کوئی اور کتاب لکھی ہے اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن کریم کے علاوہ مجھے اور کوئی کتاب دی ہے، چنانچہ اس " صحیفہ" سے مراد وہ لکھا ہوا ورق تھا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیات کے احکام اور چند دوسرے احکام تحریر کرائے تھے اور جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلوار کی نیام میں رہتا تھا۔
اس صحیفہ یا ورق میں دیات کے احکام کے علاوہ اور جو احکام لکھے ہوئے تھے ان میں مدینہ کے بارہ میں بھی یہی حکم تھا، جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مذکورہ بالا حدیث میں بیان کیا۔ لہٰذا مدینہ عیر اور ثور کے درمیان حرام ہے، کا مطلب یہ ہے کہ مدینہ منورہ اور اس کے گرداگرد زمین کا وہ حصہ جو عیر اور ثور کے درمیان ہے بزرگ قدر اور باعظمت ہے! اس میں ایسی چیزوں کا ارتکاب ممنوع ہے ، جو اس مقدس شہر اور اس کی باعظمت زمین کی توہین و حقارت کا سبب ہوں، لیکن حضرت امام شافعی کے نزدیک حرام سے مراد " حرم " ہے یعنی مدینہ، حرم مکہ کی مانند ہے کہ جو چیزیں مثلاً شکار وغیرہ حرم مکہ میں حرام ہیں وہ مدینہ میں بھی حرام ہیں، اس طرح ان کے ہاں حرم مدینہ کی حدود عیر اور ثور نامی پہاڑ ہیں جو مدینہ مطہرہ کے دونوں طرف واقع ہیں۔
لایقبل منہ صرف ولاعدل، میں لفظ صرف کے معنی " فرض" بھی مراد لئے جا سکتے ہیں اور " نفل" بھی نیز" توبہ" اور " شفاعت" بھی اس لفظ کے معنی ہو سکتے ہیں، اس طرح لفظ عدل کے معنی نفل بھی مراد لئے جا سکتے ہیں اور فرض بھی ۔ نیز فدیہ اور بعض حضرات کے قول کے مطابق شفاعت ، یا توبہ ، بھی اس لفظ کے معنیٰ ہو سکتے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس صحیفہ میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لکھوایا ہو ادوسرا حکم یہ بیان کیا کہ مسلمانوں کا امان ایک شئے واحد کی مانند ہے کہ اس کا تعلق ملت کے ہر فرد سے ہو سکتا ہے خواہ وہ برتر ہو یا کمتر، مثلاً جس طرح کسی اعلیٰ حیثیت کے مسلمان کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی کو عہد امان دے اسی طرح کسی ادنیٰ ترین مسلمان کو بھی عہد امان دینے کا اختیار حاصل ہے اور اس کے عہد امان کا لحاظ کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے، گویا اس حکم کا حاصل یہ ہوا کہ مسلمانوں میں سے اگر کوئی بھی شخص خواہ وہ کتنا ہی حقیر و کمتر ہو (جیسے غلام وغیرہ) کسی غیر مسلم کو امان دے اور اس سے اس کی جان و مال کی حفاظت کا عہد کرے ، اس کو اپنی پناہ میں لے لے تو اس کے عہد کو توڑنا کسی دوسرے مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے عہد امان کو پامال کرے گا بایں طور کہ اس کے زیر امان غیر مسلم کی جان و مال کو نقصان پہنچائے تو وہ اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام مسلمانوں کی لعنت کا مستحق ہوگا۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس صحیفہ کا ایک حکم یہ بھی بیان کیا کہ جو شخص اپنے ساتھیوں اور دوستوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے سلسلہ موالات یعنی رابطہ دوستی قائم کرے وہ بھی لعنت کا مستحق ہوتا ہے! اس ضمن میں کچھ تفصیل ہے اس کو جان لینا چاہئے " ولاء" کی دو قسمیں ہیں پہلی قسم تو " ولاء موالات " ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلا اہل عرب کا یہ معمول تھا کہ کچھ لوگ آپس میں دوستی کا رشتہ قائم کر کے یہ عہد کرتے اور قسم کھاتے تھے کہ ہم دوسرے کے بھلے برے میں شریک رہیں گے، زندگی کے ہر مرحلہ پر ہر ایک دوسرے کا ممد و معاون رہے گا، آپس میں ایک دوسرے کے دوست سے دوستی رکھیں گے اور دشمن کو دشمن سمجھیں گے۔ اسی کو " ولاء موالات" کہتے ہیں۔ ایام جاہلیت میں تو آپس کے عہد و پیمان کا تعلق صحیح و غلط، حق و ناحق، ہر معاملہ سے ہوتا تھا، ایک شخص چاہے حق پر ہو چاہے ناحق پر، اس کے دوسرے ساتھی اس کی مدد ہر حال میں کرتے تھے۔ لیکن جب اسلام کی روشنی نے عہد جاہلیت کی ظلمت کو ختم کیا تو مسلمانوں نے اس میں اتنی ترمیم کی کہ ان کا ایک دوسروں کے ساتھ تعان و اشتراک صرف صحیح اور حق معاملہ تک محدود رہتا لیکن اس کے باوجود یہ معمول جاری رہا یہاں تک کہ اکثر اہل عجم، عرب میں آ کر صحابہ سے اس کا سلسلہ قائم کرتے تھے۔
دوسری قسم " ولاء عتاقت" ہے اس کی صورت یہ ہے کہ مثلاً اگر کوئی شخص اپنے کسی غلام کو آزاد کرتا ہے تو اس غلام پر یہ حق ولاء ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کے عصبہ (بیٹا پوتا وغیرہ) نہ ہونے کی صورت میں وہ آزاد کرنے والا اس کا وارث بن جاتا ہے لہٰذا ذوی الفروض (باپ دادا وغیرہ سے جو کچھ بچتا ہے وہ اس کا مالک ہوتا ہے۔
اس تفصیل کو ذہن میں رکھ کر اب سمجھئے کہ حدیث میں مذکورہ" موالات" سے ولاء کی پہلی قسم بھی مراد ہو سکتی ہے، اس صورت میں اس حکم کے معنی یہ ہوں گے کہ جس شخص کے موالی یعنی مذکورہ بالا عہد و پیمان کے مطابق دوست اور رفقاء ہوں تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے ان دوستوں کی اجازت کے بغیر کسی اور جماعت کو اپنا موالی (دوست) نہ بنائے کیونکہ اس کی وجہ سے ایک طرح کی عہد شکنی بھی ہوتی ہے اور مسلمانوں کو قلبی اذیت اور روحانی تکلیف میں مبتلا کرنا بھی ہوتا ہے جو کسی مسلمان کے لئے قطعا مناسب نہیں ہے ۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ " موالات" سے ولاء کی دوسری قسم مراد ہو، اس کے پیش نظر معنی یہ ہوں گے کہ جو شخص اپنی آزادی کی نسبت آزاد کرنے والے کی بجائے کسی دوسرے کی طرف کرے تو وہ مستحق لعنت ہوتا ہے جیسا کہ اپنے باپ کی بجائے کسی غیر کی طرف اپنی نسبت کرنے والا شخص مستحق لعنت ہوتا ہے اس صورت میں " بغیر اذن موالیہ" کی قید اکثر کے اعتبار سے ہو گی کہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ اگر آزادی یافتہ غلام اپنے مالک سے اس بات کی اجازت چاہتا ہے کہ وہ اپنی آزادی کی نسبت اس کی بجائے کسی دوسرے کی طرف کرے تو وہ اس کی اجازت نہیں دیتا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر مالک اجازت دے دے تو پھر غیر مالک کی طرف نسبت کرنا درست ہو جائے گا کیونکہ پھر جھوٹ کی صورت بن جائے گی جو ویسے بھی جائز نہیں ہے۔
شیعوں کے قول کی تردید
شیعہ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک وصیت نامہ مرتبہ کرایا تھا، جس میں جہاں اور بہت سی خاص باتیں تھیں وہیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا خلیفہ اول مقرر کرنے کی ہدایت بھی تھی۔ اس وصیت نامہ کا علم اہل بیت میں سے چند مخصوص افراد (مثلاً حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وغیرہ ) کے علاوہ اور کسی کو نہیں تھا، ظاہر ہے کہ شیعہ حضرات کا یہ قول اختراع سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ مذکورہ بالا حدیث اس قول کی تردید میں مضبوط دلیل ہے، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود وضاحت کے ساتھ فرما رہے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے قرآن کریم اور صحیفہ مذکورہ کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں لکھی ہے۔
آخر میں ایک بات یہ بھی جان لیجئے کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ علم کی باتوں کو لکھنا اور مرتب کرنا مستحب ہے، جو ایک عظیم الشان خدمت بھی ہے اور اجر و ثواب کا باعث بھی۔

یہ حدیث شیئر کریں