مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ میت پر رونے کا بیان ۔ حدیث 251

نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر امت مرحومہ کا وصف عظیم

راوی:

وعن أم الدرداء قالت : سمعت أبا الدرداء يقول : سمعت أبا القاسم صلى الله عليه و سلم يقول : " إن الله تبارك وتعالى قال : يا عيسى إني باعث من بعدك أمة إذا أصابهم ما يحبون حمدوا الله وإن أصابهم ما يكرهون احتسبوا وصبروا ولا حلم ولا عقل . فقال : يا رب كيف يكون هذا لهم ولا حلم ولا عقل ؟ قال : أعطيهم من حلمي وعلمي " . رواهما البيهقي في شعب الإيمان

حضرت ام درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ " اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ اے عیسیٰ میں تمہارے بعد ایک امت پیدا کروں گا جب انہیں کوئی پسندیدہ چیز یعنی نعمت و راحت ملے گی تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے اور جب کوئی ناپسندیدہ چیز یعنی تکلیف و مصیبت پہنچے گی تو ثواب کی امید رکھیں گے اور صبر کریں گے در آنحالیکہ نہ تو عقل ہو گی اور بردباری۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا اے میرے پروردگار! یہ کیوں کر ہو گا جب کہ نہ عقل ہو گی نہ بردباری! پروردگار نے فرمایا میں انہیں اپنی بردباری اور اپنے علم میں سے کچھ حصہ دے دوں گا۔ یہ دونوں روایتیں بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہیں۔

تشریح
یہاں امت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیک و فرمانبردار اور صلحاء مراد ہیں اللہ تعالیٰ کے ارشاد نہ عقل ہو گی نہ بردباری کا مطلب یہ ہے کہ اس کے باوجود کہ مصبت و تکلیف کی وجہ سے بردباری و عقل جاتی رہے گی، لیکن مصیبت و تکلیف پر صبر کریں گے اور ثواب کے طلب گار ہوں گے یعنی بردباری اور عقل یہ دونوں ایسے وصف ہیں کہ ان کی وجہ سے انسان مصیبت و حادثہ کے وقت جزع و فزع اور بے صبری اختیار کرنے سے باز رہتا ہے اور یہ جان کر صبر و سکون کے دامن کو پکڑے رہتا ہے کہ نفع و نقصان اور تکلیف و راحت سب کچھ اللہ رب العزت ہی کی طرف سے ہے لہٰذا ان دونوں اوصاف کے نہ ہونے کے باوجود صبر و سکون کے دامن کو پکڑے رہنا قابل تعجب بات ہے؟ چنانچہ اسی لئے حضرت عیسیٰ نے پوچھا کہ جب بردباری اور عقل ہی کا فقدان ہو گا تو پھر صبر کرنا کیسے ممکن؟ اور پھر ثواب کی امید کے کیا معنی؟ حضرت عیسیٰ کے اس اشکال اور ان کی اس حیرت کا جواب بارگاہ الوہیت سے یہ دیا گیا کہ ایسے مواقع پر امت مرحومہ کے افراد کی راہنمائی عقل و دانش اور حلم و بردباری کا وہ نور کرے گا جو کسبی نہیں ہو گا بلکہ میں اپنے پاس سے عقل و بردباری کی دولت بلا کسب عطا کروں گا جس کی وجہ سے بڑی بڑی مصیبت پر وہ صبر کریں گے اور ثواب کے امیدوار ہوں گے۔

یہ حدیث شیئر کریں