مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ جن چیزوں میں زکوۃ واجب ہوتی ہے ان کا بیان ۔ حدیث 306

زیور کی زکوۃ

راوی:

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن امرأتين أتتا رسول الله صلى الله عليه و سلم وفي أيديهما سواران من ذهب فقال لهما : " تؤديان زكاته ؟ " قالتا : لا . فقال لهما رسول الله صلى الله عليه و سلم : " أتحبان أن يسوركما الله بسوارين من نار ؟ " قالتا : لا . قال : " فأديا زكاته " رواه الترمذي وقال : هذا حديث قد رواه المثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب نحو هذا والمثنى بن الصباح وابن لهيعة يضعفان في الحديث ولا يصح في هذا الباب عن النبي صلى الله عليه و سلم شيء

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد مکرم سے اور وہ اپنے جد محترم سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دن دو عورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ان دونوں نے اپنے ہاتھوں میں سونے کے کڑے پہنے ہوئے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کڑوں کو دیکھ کر فرمایا کہ کیا تم ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو! ان دونوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم یہ بات پسند کرتی ہو کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے دو کڑے پہنائے۔ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو پھر اس سونے کی زکوۃ ادا کیا کرو۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کو اسی طرح مثنی بن صباح نے عمرو بن شعیب سے نقل کیا ہے اور مثنی بن صباح نیز ابن لہیعہ جو اس حدیث کے ایک دوسرے راوی ہیں دونوں روایت حدیث کے بارے میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں اور اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی صحیح حدیث منقول نہیں ہے۔

تشریح
یہ حدیث بھی بڑی وضاحت کے ساتھ اس بات کی دلیل ہے کہ زیورات میں زکوۃ واجب ہے امام ترمذی کا یہ کہنا ہے کہ اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی صحیح حدیث منقول نہیں ہے سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے کیونکہ احادیث کی دوسری کتابوں میں اس مسئلہ سے متعلق صحیح حدیثیں منقول ہیں جنہیں ملا علی قاری نے بھی مرقات میں نقل کیا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں