مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ صدقہ کی فضیلت کا بیان ۔ حدیث 403

راستے سے تکلیف دہ چیز دور کردینے کا اجر

راوی:

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " مر رجل بغصن شجرة على ظهر طريق فقال : لأنحين هذا عن طريق المسلمين لا يؤذيهم فأدخل الجنة "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک شخص درخت کی ایک ٹہنی کے پاس گزرا جو راستے کے اوپر تھی اور وہ راہ گیروں کو تکلیف پہنچاتی تھی اس شخص نے اپنے دل میں کہا کہ میں اس ٹہنی کو مسلمانوں کے راستے سے صاف کر دوں گا تاکہ انہیں تکلیف نہ پہنچے چنانچہ وہ شخص جنت میں داخل کیا گیا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے ٹہنی کو راستہ سے صاف کرنے کا ارادہ کیا اور پھر اسے صاف کر دیا چنانچہ اسے جنت میں داخل کر دیا گیا یا یہ کہ وہ شخص اپنی نیک و باخلوص نیت ہی کی بنا پر جنت کا مستحق قرار پایا۔

یہ حدیث شیئر کریں