مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ روزہ کو پاک کرنے کا بیان ۔ حدیث 525

بلا روح روزہ

راوی:

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " كم من صائم ليس له من صيامه إلا الظمأ وكم من قائم ليس له من قيامه إلا السهر " . رواه الدارمي

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہت سے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جنہیں ان کے روزے سے سوائے پیاسا رہنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا اور رات میں عبادت میں مشغول رہنے والے بہت سے ایسے ہیں جنہیں ان کی عبادت سے سوائے بے خوابی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ (دارمی)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص روزہ رکھے مگر نہ تو اس کی نیت میں اخلاص وللہیت ہو اور نہ وہ جھوٹ گواہی بہتان تراشی غیبت اور ان کے علاوہ دیگر ممنوعات سے اجتناب و پرہیز کرے تو اس کا روزہ بلا روح ہے کہ وہ بھوکا اور پیاسا تو رہتا ہے مگر اسے روزہ کا کمال اور ثواب حاصل نہیں ہوتا اگرچہ اس کے ذمہ سے فرض ساقط ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص رات میں عبادت میں مشغول رہتا ہے اور اسے حضوری قلب اور صدق نیت کی دولت میسر نہیں ہوتی یا اس کی وہ عبادت دنیا کے فائدہ اور ریاء و نمائش کے جذبہ کے تحت ہوتی ہے تو اسے کچھ ثواب نہیں ملتا اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی شخص کسی غصب کردہ مکان میں نماز پڑھے تو اسے ثواب نہیں ملتا اگرچہ اس کے ذمہ سے فرض ساقط ہو جاتا ہے یا جو شخص بغیر عذر جماعت سے محرورم رہتا ہے ایسے ہی دیگر عبادات مثلا حج و زکوۃ وغیرہ کا بھی مسئلہ یہ ہے کہ اگر اخلاص نیت حاصل نہ ہو تو تضییع مال اور جسمانی مشقت و محنت کے علاوہ اور کچھ ہاتھ نہیں لگتا ۔
حاصل یہ کہ کوئی بھی عبادت ہو جب تک اخلاص نیت، حضور قلب اور محض اللہ تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی کا جذبہ میسر نہ ہو وہ بلا روح ہوتی ہے کہ جس سے نہ تو قرب الٰہی کی سعادت میسر آتی ہے اور نہ اجر و ثواب کی دولت حاصل ہوتی ہے۔
وذکر حدیث لقیط بن صبرۃ فی باب سنن الوضوء
اور لقیط بن صبرہ کی روایت جو صاحب مصابیح نے یہاں نقل کی تھی باب سنن الوضو میں ذکر کی جا چکی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں