مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ لیلۃ القدر کا بیان ۔ حدیث 603

شب قدر رمضان میں آتی ہے

راوی:

وعن ابن عمر قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ليلة القدر فقال : " هي في كل رمضان " . رواه أبو داود وقال : رواه سفيان وشعبة عن أبي إسحق موقوفا على ابن عمر

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شب قدر کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ہر رمضان میں آتی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روایت کو سفیان اور شعبہ نے ابی اسحق سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے موقوفاً نقل کیا ہے۔

تشریح
ہر رمضان کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ کوئی رمضان شب قدر سے خالی نہیں جاتا یعنی ہر سال جب رمضان آتا ہے تو اس میں شب قدر بھی آتی ہے دوسرے معنی یہ ہیں کہ شب قدر رمضان کے پورے مہینہ میں کسی بھی رات آ سکتی ہے آخری عشرہ کی کوئی تخصیص نہیں ہے لیکن اس معنی کے پیش نظر یہ تاویل کی جائے گی کہ پہلے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہی معلوم ہوا تھا کہ شب قدر پورے رمضان میں کسی بھی رات آ سکتی ہے مگر بعد میں یہ ثابت ہو گیا کہ اس مقدس شب کا حامل صرف آخری عشرہ ہی ہے۔ آخری عشرہ کے علاوہ اور کسی حصہ میں شب قدر نہیں آتی۔

یہ حدیث شیئر کریں