مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ آرزوئے موت اور موت کو یاد رکھنے کی فضیلت کا بیان ۔ حدیث 78

موت کی آرزو نہ کرو

راوی:

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " لا يتمنى أحدكم الموت ولا يدع به من قبل أن يأتيه إنه إذا مات انقطع أمله وإنه لا يزيد المؤمن عمره إلا خيرا " . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " تم میں سے کوئی شخص نہ (تو دل سے) موت کی آرزو کرے اور (زبان سے) موت کی دعا مانگے قبل اس کے کہ اس کی موت آئے۔ کیونکہ انسان جب مر جاتا ہے تو (بھلائی کی زیادتی کے لئے) اس کی امیدیں منقطع ہو جاتی ہیں اور مؤمن کی عمر کی درازی اس کی بھلائی ہی میں زیادتی کرتی ہے" ۔ (مسلم)

تشریح
ظاہر ہے کہ جب انسان کی زندگی ختم ہو جاتی ہے تو نیکی و بھلائی کی راہیں بھی منقطع ہو جاتی ہیں کیونکہ اگر زندگی ہو گی تو اعمال نیک ہوں گے اور جب اعمال نیک ہوں گے تو سعادت بھلائی میں زیادتی ہی زیادت ہو گی اسی لئے فرمایا گیا کہ بندہ مؤمن کی زندگی جب دراز ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے اس کی بھلائی و سعادت میں زیادتی ہوتی ہے کیونکہ بندہ مؤمن بلاء و مصیبت پر صبر کرتا ہے نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے، تقدیر الٰہی سے راضی رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کی فرمانبرداری کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ثواب بڑھتا ہی جاتا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں