مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں کا بیان ۔ حدیث 821

دعاء یونس کی برکت وتاثیر

راوی:

وعن سعد رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
دعوة ذي النون إذا دعا ربه وهو في بطن الحوت ( لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين )
لم يدع بها رجل مسلم في شيء إلا استجاب له " . رواه أحمد والترمذي

حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مچھلی والے یعنی حضرت یونس علیہ السلام کی وہ دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں اپنے پرودگار سے مانگی تھی یہ ہے آیت (لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین)۔ (تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بلاشک میں ظالموں میں سے تھا) جو مسلمان شخص اس دعا کے ذریعہ اللہ سے کوئی چیز مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا سوال پورا کرتا ہے۔ (احمد، ترمذی)

تشریح
حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ مختصر طور پر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شہر نینویٰ کے رہنے والوں کی طرف ان کی ہدایت کے لئے بھیجا تھا انہوں نے ان کو ایمان کی دعوت دی جسے انہوں نے ٹھکرا دیا ور ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کے پاس یہ وحی بھیجی کہ تم اپنی قوم کو آگاہ کر دو کہ تین دن کے بعد تم پر عذاب نازل ہو گا، حضرت یونس علیہ والسلام نے ان کو آگاہ کر دیا اور خود اس شہر سے نکل گئے وقت مقررہ پر ایک سیاہ ابر ظاہر ہوا اور قریب ہوتے ہوتے اس شہر پر آ کر رک گیا اور اس میں سے ایک قسم کا دھواں نکلنے لگا۔ جب شہر والوں نے دیکھا کہ اب عذاب نازل ہوا چاہتا ہے تو سب اپنی بیویوں، اپنی اولاد اپنے جانوروں کو لے کر جنگل کی طرف نکل کھڑے ہوئے اور وہاں آدمیوں اور جانوروں کے بچوں کو ان ماؤں سے الگ کر کے گریہ و زاری کے ساتھ اپنی آوازیں بلند کیں اور اپنے کفر و گناہوں سے توبہ کر کے ایمان لائے اور یہ پکار اٹھے کہ لاحی حین لا الہ الا انت (اے زندہ اس وقت سے کہ کوئی زندہ نہ تھا تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے وہ عذاب جو ان پر مسلط تھا ٹال دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد حضرت یونس علیہ السلام اس شہر کی طرف آئے تاکہ دیکھیں اس شہر اور شہر والوں کا کیا حال ہوا انہوں نے دور سے دیکھا کہ شہر اسی طرح آباد ہے جس طرح کہ پہلے تھا اور شہر والے زندہ وسلامت ہیں۔ یہ دیکھ کر انہیں بڑی شرم محسوس ہوئی کہ میں نے تو ان سے کہا تھا کہ تین دن کے بعد تمہارے اوپر عذاب نازل ہو گا مگر عذاب کا کہیں نام ونشان بھی نہیں ہے انہیں اس بات کی خبر نہیں تھی کہ عذاب تو نازل ہوا تھا مگر ٹال دیا گیا۔ بہر کیف وہ یہ سوچ کر کہ ایسی صورت میں شہر جانا مناسب نہیں ہے وہاں سے واپس ہوئے اور دریا پر پہنچ کر تاکہ اس پار چلے جائیں کشتی تیار تھی وہ کشتی میں بیٹھ گئے۔ ان کے بیٹھتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسا کشتی اپنی جگہ پر جم گئی ہو بہت ہی کوشش کی گئی مگر کشتی نے ہلنے کا نام بھی نہ لیا۔ ملاحوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کشتی میں کوئی ایسا غلام بیٹھا ہوا ہے جو اپنے مالک سے بھاگ کھڑا ہوا ہے اسی لئے یہ کشتی نہیں چل رہی اور یہ کہہ کر انہوں نے کشتی میں بیٹھے ہوئے تمام مسافروں میں قرعہ ڈالا اور قرعہ میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکلا حضرت یونس علیہ السلام نے کہا کہ بے شک میں ہی بھاگا ہوا غلام ہوں۔ اس کے بعد خود ہی وہ دریا میں کود گئے اور ایک مچھلی نے اللہ کے حکم سے انہیں نگل لیا۔ اللہ نے مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں اپنے پیٹ میں محفوظ رکھا جائے چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں پڑے رہے اور مچھلی انہیں لئے دریائے نیل دریائے فارس دریائے دجل میں پھرتی رہی اور حضرت یونس علیہ السلام بارگاہ الٰہی میں یہ عرض کرتے رہے آیت (لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین)۔ (اے اللہ تو معبود حاکم اور مطلق ہے تیری ذات پاک ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے بایں طور کہ میں تیری اجازت کے بغیر اپنی قوم سے نکل بھاگا۔ چنانچہ حق تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں نصیبین کے ساحل پر کہ جو شام کا ایک شہر ہے اپنے پیٹ سے نکال دے۔

یہ حدیث شیئر کریں