مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ استغفار وتوبہ کا بیان ۔ حدیث 867

کسی گناہ گار کو دوزخی نہ کہو

راوی:

وعن جندب رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حدث : " أن رجلا قال : والله لا يغفر الله لفلان وأن الله تعالى قال : من ذا الذي يتألى علي أني لا أغفر لفلان فإني قد غفرت لفلان وأحبطت عملك " . أو كما قال . رواه مسلم

حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بیان فرمایا اس امت میں سے یا گزشتہ امتوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کون شخص ہے جو میری قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص کو نہیں بخشوں گا اور یہ جان لے کہ میں نے اس شخص کو بخش دیا اور تیرے عمل کو ضائع یعنی تیری قسم کو جھوٹا کیا۔ (مسلم)

تشریح
کوئی شخص بہت زیادہ گناہ کرتا تھا اس کے بارہ میں ایک دوسرے شخص نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اسے نہیں بخشے گا اس نے یہ بات از راہ تکبر اس کو بہت گنہگار اور اپنے کو اس سے اچھا جان کر کہی ۔ جیسا کہ بعض جاہل صوفیاء گنہگاروں کے بارے میں اچھا گمان نہیں رکھتے حالانکہ ایسے لوگ یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع اور عام ہے اس کے گنہگار بندوں کو بھی اس کے دامن میں پناہ ملتی ہے اور وہی ان کو بخشتا ہے ۔
حاصل یہ کہ اس قسم کے کھانے والے نے اس کے نہ بخشے جانے کا جو یقین کیا تھا اس پر عتاب ہوا بایں طور کہ اس کی قسم کو جھوٹا کیا گیا اور اس شخص کو بخش دیا گیا ۔ لہٰذا کسی بھی شخص کے بارہ میں قطعی طور پر یہ کہنا کہ وہ جنتی ہے ! یا دوزخی ہے جائز نہیں ہے ہاں قرآن وحدیث نے وضاحت کے ساتھ جن لوگوں کو جنتی و دوزخی کہا ہے ان کو قطعی طور پر جنتی یا دوزخی کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں