مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ رحمت باری تعالیٰ کی وسعت کا بیان ۔ حدیث 906

جزاء اور سزا میں رحمت الٰہی کا ظہور

راوی:

وعن ابن عباس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إن الله كتب الحسنات والسيئات : فمن هم بحسنة فلم يعملها كتبها الله له عنده حسنة كاملة فإن هم بعملها كتبها الله له عنده عشر حسنات إلى سبعمائة ضعف إلى أضعاف كثيرة ومن هم بسيئة فلم يعملها كتبها الله عنده حسنة كاملة فإن هو هم بعملها كتبها الله له سيئة واحدة "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھی یعنی فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ لوح محفوظ میں نیکیوں اور برائیوں کے بارہ میں یہ تفصیل لکھ دیں کہ جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے اور وہ اس پر عمل نہ کر سکے (یعنی ارادہ کے باوجود وہ کسی عذر کی بناء پر اس نیکی کو کرنے پر قادر نہ ہو سکے) تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے ہاں اس ارادہ ہی کو ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اور پھر اس نیکی کو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے ہاں دس گنا سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھ لیتا ہے یعنی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے اللہ چاہتا ہے اپنے فضل و کرم سے بحسب اخلاص اور ادائیگی شرائط وآداب اس سے بھی زیادہ ثواب لکھتا ہے اور جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرے اور پھر اللہ کے خوف کی وجہ سے اس برائی میں بھی مبتلا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور جس شخص نے کسی برائی کا ارادہ کیا تو پھر اس برائی میں مبتلا بھی ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک ہی برائی لکھتا ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
نیکیوں سے مراد وہ اعمال ہیں جن کو کرنے سے ثواب ملتا ہے اور برائیوں سے مراد وہ اعمال ہیں جن کو کرنے سے عذاب کا مستحق ہوتا ہے ۔
جو شخص کسی نیکی کا اردہ کرے اور وہ نیکی کسی وجہ سے نہ کر سکے تو اس کے لئے بھی ایک نیکی اس لئے لکھی جاتی ہے کہ کسی بھی عمل کا ثواب نیت پر موقوف ہے اور مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر اور افضل ہوتی ہے بلکہ یوں کہئے کہ اصل تو نیت ہی ہے عمل کا درجہ اس کے بعد ہے کیونکہ عمل کے بغیر صرف نیت پر تو ثواب دیا جاتا ہے مگر نیت کے بغیر صرف عمل پر ثواب نہیں دیا جاتا ہاں اتنا فرق ضرور ہوتا ہے کہ بغیر عمل کے نیت پر جو ثواب ملتا ہے وہ مضاعف نہیں ہوتا۔
نیکی پر ثواب کے مضاعف ہونے کی مقدار کو سات سو تک بیان کیا جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ ثواب میں کتنا اضافہ کرتا ہے اس کی آخر حد اور مقدار کسی کو معلوم نہیں ہے کیونکہ سات سو کے بعد مقدار کو اللہ تعالیٰ نے مبہم رکھا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کی طرف رغبت دلانے کے لئے اس کو معین کر کے ذکر کرنے کی بجائے مبہم ذکر کرنا زیادہ موثر ہوتا ہے اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ آیت (فلا تعلم نفس مااخفی لھم من قرۃ اعین )۔

یہ حدیث شیئر کریں