مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان ۔ حدیث 564

عمر بلوغ پندرہ سال ہے

راوی:

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : عرضت على رسول الله صلى الله عليه و سلم عام أحد وأنا ابن أربع عشرة سنة فردني ثم عرضت عليه عام الخندق وأنا ابن خمس عشرة سنة فأجازني فقال عمر بن عبد العزيز : هذا فرق ما بين المقاتلة والذرية

حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ تین ہجری میں غزوہ احد کے موقع پر جہاد میں جانے کے لئے مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا جب کہ میری عمر چودہ سال تھی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے واپس کر دیا یعنی جہاد میں شرکت کے لئے مجھ کو نہ لے گئے) پھر غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ میری عمر پندہ سال تھی مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جہاد میں جانے کی اجازت عطاء فرما دی کیونکہ بالغ ہونے کی عمر پندرہ سال ہے) حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ عمر لڑنے والوں اور لڑکوں کے درمیان فرق کرنیوالی ہے (بخاری ومسلم)

تشریح :
جب حضرت عمر بن عبدالعزیز نے یہ حدیث سنی تو مذکورہ بالاجملہ ارشاد فرمایا کہ جس سے ان کی مراد یہ تھی کہ جب لڑکا پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جائے اور جو پندرہ سال کی عمر کو نہ پہنچے اس کو نابالغ لڑکوں میں شمار کیا جائے اس سے معلوم ہوا کہ بالغ ہونے کی عمر پندرہ سال ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں