مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ امارت وقضا کا بیان ۔ حدیث 823

ہر حاکم وامیر کے ہمراہ ہمیشہ دو متضاد طاقتیں رہتی ہیں ۔

راوی:

وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " ما بعث الله من نبي ولا استخلف من خليفة إلا كانت له بطانتان : بطانة تأمره بالمعروف وتحضه عليه وبطانة تأمره بالشر وتحضه عليه والمعصوم من عصمه الله " . رواه البخاري

اور حضرت ابوسعید روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی نبی نہیں بھیجا اور ایسا کوئی خلیفہ مقرر نہیں کیا جس کے لئے دو چھپے ہوئے رفیق نہ ہوں ایک چھپا ہوا رفیق تو نیک کام کرنے کا حکم دیتا ہے اور نیکی کی طرف راغب کرتا ہے اور دوسرا چھپا ہوا رفیق برائی کا حکم دیتا ہے اور برائی کی طرف کرتا ہے اور معصوم (بے گناہ ) وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے محفوظ رکھا ۔" (بخاری)

تشریح :
دو چھپے ہوئے رفیقوں سے مراد فرشتہ اور شیطان ہیں یہ دونوں انسان کے باطن میں رہتے ہیں چنانچہ فرشتہ اور شیطان ہیں یہ دونوں انسان کے باطن میں رہتے ہیں چنانچہ فرشتہ تو نیک کام کرنے کی ہدایت کرتا رہتا ہے اور نیکی کی ترغیب دیتا ہے جب کہ شیطان برے کام کرنے پر اکساتا رہتا ہے اور برائی کی طرف دھکیلتا رہتا ہے ۔
" اور معصوم وہ ہے الخ " کے ذریعہ انبیاء کرام صلوٰۃ اللہ علیہم اجمعین ، خلفاء راشدین اور بعض دوسرے خلفاء وامراء کا حال بیان کیا گیا ہے جن کو اللہ نے شیطان کے شر و فتنہ سے محفوظ رکھا ہے ۔
" دو رفیقوں " سے مراد وزیر و مشیر ہو سکتے ہیں جو خلیفہ کے ساتھ ہر دم رہنے کی وجہ سے بطانہ (استرا) سے مشابہ ہو گئے ہیں ، چنانچہ ہر نبی اور خلیفہ کے ساتھ جو مشیر کار اور مصاحب رہتے تھے ان میں دو مختلف خیالات کے حامل افراد بھی ہوتے تھے یا ان کے ساتھ دو جماعتیں ہوتی تھیں جو آپس میں مختلف الرائے ہوتی تھیں جیسا کہ عام طور پر امراء وسلاطین اور والیان ریاست کے یہاں دیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ ان کے صاحب ، مشیران کار اور کار پرداز ہوتے ہیں ان کے خیالات اور آراء کا بعد بین المشرقین ہوتا ہے ، چنانچہ ان میں سے جو لوگ اچھے خیالات کے اور صائب ہوتے ہیں وہ اپنے والی وامیر کو اچھے مشورہ دیتے ہیں اور جن کے خیالات فاسد ہوتے ہیں یا جن کے طبائع میں برائی کا مادہ ہوتا ہے وہ اپنے والی وامیر کو غلط مشورے دیتے ہیں اور ان کو برائی کی راہ پر چلانا چاہتے ہیں آگے اللہ کی مصلحت کار فرما ہوتی ہے کہ وہ جس والی وامیر کو چاہتا ہے برے مصاحبین کے خیالات اور ان کے مشورے قبول کرنے سے بچاتا ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں