مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ جن بیوع سے منع کیا گیا ہے ان کا بیان ۔ حدیث 87

ضرورت سے زائد پانی کو بیچنے کی ممانعت

راوی:

وعنه قال : نهى رسول الله عن بيع فضل الماء . رواه مسلم

حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ضرورت سے زائد پانی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے (مسلم)

تشریح :
یعنی اگر کسی شخص کی ملکیت میں اتنا پانی ہو تو جو اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد بچ جائے اور دوسرے لوگ اس کے حاجت مند ہوں تو اس بچے ہوئے پانی کو روکا اور ضرورت مند لوگوں کے ہاتھ بیچنا جائز نہیں ہے بلکہ وہ پانی انہیں مفت ہی دیدینا چاہئے لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ ان لوگوں کی ضرورت کا تعلق اس پانی کو خود پینے یا جانوروں کو پلانے سے ہو اگر کوئی شخص اپنے کھیتوں یا درختوں کو سیراب کرنے کے لئے وہ پانی چاہے تو پھر مالک کے لئے جائز ہے کہ وہ اس پانی کو بغیر معاوضے کے نہ دے۔
حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی ضرورت سے زائد پانی کو نہ بیچو کہ اس کی وجہ سے گھاس کا بکنا لازم آئے (بخاری ومسلم)

تشریح :
پانی کے بیچنے سے گھاس کا بکنا اس طرح لازم آتا ہے کہ مثلًا ایک شخص کسی دوسرے شخص کے پانی کے گرد اپنے جانوروں کو چرائے اور ظاہر ہے کہ وہ جانور چرنے کے بعد پانی ضرور پئیں گے لیکن چونکہ پانی کا مالک کسی دوسرے کے جانوروں کو بلا قیمت پانی پینے نہیں دیتا اس لئے لا محالہ وہ شخص اس بات کے لئے مجبور ہوگا کہ پانی خریدے اور اپنے جانوروں کو پلائے اس طرح پانی کا بیچنا دراصل گھاس کا بیچنا ہوگا اور یہ معلوم ہی ہے کہ گھاس بیچنی جائز نہیں ہے۔
علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ ممانعت آیا تحریمی ہے یا تنزیہی بعض تو تحریمی کے قائل ہیں اور بعض تنزیہی کے لیکن زیادہ صحیح یہی ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں