مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ غصہ اور تکبر کا بیان ۔ حدیث 1012

لوگوں سے جو معاملہ کرو خوش خلقی کے ساتھ کرو

راوی:

وعن أبي ذر قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم اتق الله حيثما كنت وأتبع السيئة الحسنة تمحها وخالق الناس بخلق حسن . رواه أحمد والترمذي والدارمي

" اور حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا اللہ سے ڈرو تم جہاں کہیں بھی ہو اگر تم سے کوئی برائی سرزد ہو جائے تو اس کے بعد نیک کام ضرور کرو تاکہ اس برائی کو مٹا دے اور لوگوں سے خوش خلقی کے ساتھ معاملہ کرو۔ (احمد ، ترمذی، دارمی)

تشریح
اللہ سے ڈرو، کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جن امور کو تم پر واجب کیا ہے ان سب کی بجا آوری و فرمانبرداری کرو اور جن چیزوں سے منع کیا ہے یعنی تمام طرح برائیاں ان سے اجتناب و پرہیز کرو۔ کہ اسی کو تقوی کہا گیا ہے اور تقوی دین کی بنیاد ہے جس کے ذریعہ ایقان و معرفت کے مراتب درجات حاصل ہوتے ہیں تقوی کا سب سے ادنی درجہ یہ ہے کہ شرک سے بے زاری و پاکی اختیار کی جائے اور اس کا سب سے اعلی درجہ یہ ہے کہ ماسوا اللہ سے اعراض کیا جائے ان دونوں درجوں کے درمیان تقوی کے دوسرے مراتب ہیں جن میں سے بعض کو بعض پر ترجیح حاصل ہے جیسے ممنوعات کو ترک کرنا ایک مرتبہ ہے اس سے برتر مرتبہ یہ ہے کہ مکروہات کو بھی ترک کیا جائے اور اس سے بھی برتر مرتبہ یہ ہے کہ جو چیزیں مباح ہیں ان میں سے بھی ان چیزوں کو ترک کیا جائے جو غیرضروری اور بے فائدہ ہوں۔
" تم جہاں کہیں ہوں " کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا اللہ سے ڈرنا یعنی احکام الٰہی پر عمل کرنا کسی خاص وقت کسی خاص جگہ اور کسی خاص حالت پر موقوف نہیں ہونا چاہیے بلکہ تم خواہ سفر میں ہو یا حضر میں خواہ نعمتوں سے بہرمندی کی حالت میں ہوں یا آفات بلاؤں میں مبتلا ہوں اور خواہ جلت میں ہوں یا خلوت میں غرض تم کسی جگہ پر اور کسی حالت میں ہو اور اس وقت اس جگہ اور اس حالت سے متعلق جو بھی احکام الٰہی ہوں ان پر عمل پیرا ہوں کیونکہ اللہ کے نزدیک تمہاری کوئی حالت پوشیدہ نہیں ہے اور وہ کسی بھی وقت تمہاری طرف سے غافل نہیں رہتا وہ جس طرح تمہاری ظاہری باتوں کو جانتا ہے اسی طرح تمہاری پوشیدہ باتیں بھی خوب جانتا ہے لہذا تمہارے لئے ضروری ہے اس کے احکام کی بجا آوری اور اس کی معصیت سے اجتناب کے جو تقاضے اور جو آداب ہیں ان کو بہر صورت نگاہ میں رکھو۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت داؤد طائی کسی قبر کے پاس سے گزر رہے تھے کہ اللہ نے ان پر اس قبر کے اندر کے حالات منکشف کئے بایں طور کہ انہوں نے سنا قبر کے اندر سے ایک آواز باہر آ رہی ہے جس میں مردہ کہہ رہا ہے کہ پروردگار کیا میں نے تیری نمازیں ادا نہیں کی ہیں کیا میں نے تیری زکوۃ ادا نہیں کی ہے اور کیا میں نے یہ نہیں کیا ہے وہ نہیں کیا ہے؟ یعنی اس نے دنیا میں جتنے بھی نیک کام کئے تھے ان سب کو گنواتا رہا اس کی یہ بات سن کر فرشتوں نے جواب دیا کہ اے دشمن اللہ بے شک تونے یہ سب کام کئے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب تو خلوت میں ہوتا تھا اور اس وقت اللہ کے خوف پر گناہوں کو ترجیح دیتا تھا اور تجھے اس بات کا کوئی لحاظ نہیں ہوتا تھا کہ اس حالت میں بھی تو اللہ کی نگاہ میں ہے۔
" اگر تم سے برائی سرزد ہو جائے " کا مطلب یہ ہے کہ انسان بہر حال انسان ہے یہ ضروری ہے کہ اس سے کبھی کوئی گناہ سرزد نہ ہو اور لغزشیں اس کے پائے استقامت پر اثر انداز نہ ہوں، لہذا اگر……بشریت تم سے کوئی گناہ صادر ہو جائے تو اس کے بعد فورا نیک کام کر لو تاکہ وہ نیکی اس گناہ برائی کے اثرات کو مٹا دے ۔ رہی یہ بات کہ نیک کام سے کیا مراد ہے؟ تو اس سے توبہ اور مطلق کوئی بھی مراد ہے یا یہ نیکی مراد ہے جو گناہ و برائی کی ضد ہو چنانچہ طیبی نے کہا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ نیک کام کرنے کے ذریعہ برائیوں کے اثرات مٹانے سے کسی بھی لمحہ غافل نہ رہے اس سے جو بھی برائی صادر ہو اس کے بدلہ میں اسی کی جنس سے کوئی نیک کام ضرور کر لے، اگر شراب نوشی کا گناہ سرزد ہو جائے تو اس کے بدلے میں جو حلال چیزیں اللہ کے واسطے لوگوں کو پلائے اگر کسی وقت تکبر میں مبتلا ہو جائے تو تواضع اختیار کرے اگر کسی جگہ گانا بجانا سننے کا اتفاق ہو جائے تو ان لوگوں کی ہم نشینی میں کچھ وقت گزارنا پڑا ہو جو گانے بجانے کی لغویت میں مبتلا ہوں تو اس کے بدلے میں قرآن پاک کی تلاوت سنے اور ذکر و نصیحت کی مجلس میں بیٹھے اور اسی طرح بخل کا تدارک ، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ کرے۔ جو یہ فرمایا گیا ہے کہ تاکہ وہ نیکی اس برائی کو مٹا دے تو مٹانے سے مراد یہ ہے کہ اللہ اس نیکی کے ذریعہ یا تو اس بندے کے دل پر سے برائی کے اثرات مٹا دیتا ہے یا اعمال لکھنے والے فرشتے کے رجسٹر میں سے اس برائی کو محو کر دیتا ہے اور یہ مٹانا بھی اس صورت میں ہوتا ہے کہ جب کہ اس برائی کا تعلق کسی حقوق العباد سے ہوتا ہے بایں طور کہ کوئی شخص کسی کے حق کو تلف کرتا ہے یا کسی پر ظلم کرتا ہے تو اس حق تلفی یا ظلم کا تدارک اس طرح کیا جاتا ہے کہ حق تلفی کرنے والے یا ظلم کرنے والے کے نامہ اعمال میں جو نیکیاں ہوتی ہیں ان میں سے اس کے بقدر نیکیاں صاحب حق کو دیدی جاتی ہیں یہ اور بات ہے کہ اللہ اپنے فضل و کرم سے دوسرے اجر و انعامات کے ذریعہ صاحب حق کو خوش کر دے اور وہ اس شخص کو معاف کرنے پر راضی ہو جائے۔
منقول ہے کہ ایک بزرگ کا اتنقال ہو گیا کچھ عرصہ کے بعد ایک دوسرے بزرگ نے خواب دیکھا کہ تو پوچھا کہ اللہ نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ نے مجھ کو احسان و انعام سے نوازا اور میری بخشش فرما دی لیکن حساب کتاب ضرور ہوا یہاں تک کہ اس دن کے بارے میں بھی مجھ سے مواخذہ ہوا جب کہ میں روزے سے تھا اور ایک دوست کی دکان پر بیٹھا ہوا تھا جب افطار کا وقت ہوا تو میں نے گہیوں کی ایک بوری میں سے گہیوں کا ایک دانہ اٹھا لیا اور اس کو توڑ کر کھانا ہی چاہتا تھا کہ مجھے احساس ہوا کہ یہ گہیوں میرا نہیں ہے چنانچہ میں نے وہ گہیوں فورا اسی جگہ ڈال دیا جہاں سے اٹھایا تھا اور اب اس کا بھی حساب لیا گیا یہاں تک کہ اس گہیوں کے توڑے جانے کے نقصان کے بقدر میری نیکیاں مجھ سے لی گئی ہیں ۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ نیکیاں صغیرہ گناہوں کا بھی کفارہ ہوتی ہیں اور کبائر میں بھی ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہیں جو پوشیدہ ہوں کیونکہ حق تعالیٰ کا یہ ارشاد " آیت (لنکفرن عنکم سیاتکم)" بھی عموم پر دلالت کرتا ہے اور مذکورہ بالا حدیث بھی مطلق اور عام ہے البتہ جو کبیرہ گناہ ظاہر ہو گئے ہیں اور حاکم قاضی کے نزدیک ثابت ہو جائیں ان پر حد یعنی شرعی سزا کا نفاذ ساقط نہیں ہوگا۔ اور نہ وہ توبہ سے معاف ہوں گے۔

یہ حدیث شیئر کریں