مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ آرزو اور حرص کا بیان ۔ حدیث 1173

دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے

راوی:

وعن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الدنيا سجن المؤمن وسنته وإذا فارق الدنيا فارق السجن والسنة . رواه في شرح السنة

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " یہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور قحط ہے جب وہ مومن دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو گویا قید خانہ اور قحط سے نجات پاتا ہے" ۔ (شرح السنہ)

تشریح
قیدخانہ اور قحط کا مطلب یہ ہے کہ مومن یہاں ہمیشہ طرح طرح کی تنگی وسختی کا شکار رہتا ہے اور معاشی پریشان حالیوں میں بسر اوقات کرتا ہے اور اگر کسی مومن کو یہاں کی خوشحالی میسر بھی ہو تو ان نعمتوں کی نسبت کہ جو اس کو آخرت میں حاصل ہونے والی ہیں، یہ دنیا پھر بھی اس کے لئے قید خانہ اور قحط زدہ جگہ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی یا یہ مراد ہے کہ مخلص و عبادت گزار مومن چونکہ اپنے آپ کو ہمیشہ طاعات و عبادات کے مشقتوں اور ریاضت و مجاہدہ کی سختیوں میں مشغول رکھتا ہے۔ عیش و راحت کو اپنی زندگی میں راہ نہیں پانے دیتا اور ہر لمحہ اس راہ شوق پر گامزن رہتا ہے کہ اس محنت و مشقت بھری دنیا سے نجات پا کر دارالبقاء کی راہ پکڑے۔ اس اعتبار سے یہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور قحط زدہ جگہ سے کم صبر آزما نہیں ہوتی، ایک روایت میں یوں فرمایا گیا لایخلو المومن من قلۃ او علۃ او ذلۃ وقد یجتمع للمومن الکامل جمیع ذلک یعنی ایسا کوئی مومن نہیں جو یا تو مال کی کمی، یا بیماری اور یا ذلت و خواری سے خالی ہو، اور بعض اوقات مومن کامل میں یہ سب چیزیں جمع ہو جاتی ہیں۔

یہ حدیث شیئر کریں