مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ ڈرانے اور نصیحت کرنے کا بیان ۔ حدیث 1297

عیش وراحت کی زندگی دینی واخروی سعادتوں کی راہ میں رکاوٹ ہے

راوی:

وعن محمد بن كعب القرظي قال حدثني من سمع علي بن أبي طالب قال إنا لجلوس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد فاطلع علينا مصعب بن عمير ما عليه إلا بردة له مرقوعة بفرو فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم بكى للذي كان فيه من النعمة والذي هو فيه اليوم ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف بكم إذا غدا أحدكم في حلة وراح في حلة ؟ ووضعت بين يديه صحفة ورفعت أخرى وسترتم بيوتكم كما تستر الكعبة ؟ . فقالوا يا رسول الله نحن يومئذ خير منا اليوم نتفرغ للعبادة ونكفى المؤنة . قال لا أنتم اليوم خير منكم يومئذ . رواه الترمذي .

حضرت محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی جس نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کو سنا تھا (چنانچہ اس شخص نے بیان کیا کہ) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ ایک دن ہم لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں (یعنی مسجد نبوی یا مسجد قبا میں) بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب ابن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی وہاں آ گئے اس وقت ان کے بدن پر صرف ایک چادر تھی اور اس چادر میں بھی چمڑے کے پیوند لگے ہوئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو رو پڑے کہ ایک زمانہ وہ تھا جب مصعب اس قدر خوشحال اور آرام و راحت کی زندگی گزارتے تھے اور آج ان کی کیا ٹوٹی پھوٹی حالت ہے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار تعجب وحسرت کے طور پر فرمایا۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تم میں کوئی شخص صبح کو ایک جوڑا پہن کر نکلے گا اور پھر شام کو دوسرا جوڑا پہن کر نکلے گا، تمہارے سامنے کھانے کا ایک بڑا پیالہ رکھا جائے گا اور دوسرا اٹھایا جائے گا اور تم اپنے گھروں پر اس طرح پردہ ڈالو گے جس طرح کعبہ پر پردہ ڈالا جاتا ہے (یعنی حضور نے اس ارشاد کے ذریعے آنے والے زمانہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ جب تم پر خوشحالی وترفہ کا دور آئے گا، اللہ تعالیٰ دنیا کے خزانوں کی کنجیاں تمہارے قدموں میں ڈال دے گا، تمہارے گھروں میں مال واسباب کی فراوانی ہوگی تو تم دن میں کئی کئی مرتبہ جوڑے بدلو گے، صبح کا لباس الگ ہوگا، شام کا الگ، تمہارے دستر خوان انواع واقسام کے کھانوں اور لذیذ و مرغوب اشیاء سے بھرے ہوں گے ، تمہارے مکان راحت و آسائش اور آراستگی و زیبائش کی چیزوں سے پر رونق ہوں گے اور گویا تمہاری زندگی عیش وعشرت کا گہوارہ اور اسراف و تنعم کی آئینہ دار ہو جائے گی۔ تو بتاؤ اس وقت تمہارے دل کی کیا حالت ہوگی اور تم کیا محسوس کرو گے؟ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم اس دن جب کہ خوشحالی وترفہ کی نعمت سے بہرہ مند ہوں گے آج کے دن سے (جب کہ ہم فقر و افلاس کی گرفت میں ہیں) بہتر حال میں ہوں گے۔ کیونکہ اس وقت ہم عبادت کے لئے اپنی معاشی جدوجہد کی الجھنوں اور حصول رزق کے فکر سے آزاد وفارغ ہوں گے اور ہمیں محنت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی (یعنی جب اس وقت ہمیں معاشی واقتصادی طور پر خوشحالی حاصل ہوگی اور نوکر چاکر ہمارے سارے کام کاج کریں گے تو ہم ذہنی وجسمانی طور پر پوری طرح بے فکر وآزاد ہوں گے اور اس صورت میں طاعت وعبادت اور دینی خدمت میں پوری دل جمعی اور سکون کے ساتھ منہمک رہ سکیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ ایسا نہیں ہے کہ اس وقت تم بہتر ہوگے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم اس دن کی نسبت آج کے دن زیادہ بہتر ہو۔ (ترمذی)

تشریح
سیوطی رحمہ اللہ نے جمع الجوامع میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک دن مصعب بن عمیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس وقت انہوں نے بکری کے چمڑے کا ایک تسمہ اپنی کمر کے گرد باندھ رکھا تھا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو (حاضرین مجلس سے ) فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے منور کر دیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ میں نے اس کے بدن پر ایک ایسا لباس دیکھا ہے جو دو سو درہم کے عوض خریدا گیا تھا، (یعنی یہ وہ شخص ہے جو اپنی پچھلی زندگی میں نہایت عیش وعشرت اور راحت وتنعم کی زندگی گزارتا تھا۔ لیکن اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت نے اس کو ایسی حالت پر پہنچا دیا ہے، جس میں تم اس کو اب دیکھ رہے ہو۔ اللہ کی بے انتہا رحمتیں ہوں اس جلیل القدر ہستی پر جس کا نام مصعب بن عمیر ہے ، قریش الاصل ہیں بڑے اونچے درجے کے صحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہے، مکہ سے ہجرت کی، گھر بار چھوڑا ، دنیا کی ساری نعمتوں اور راحتوں کو ٹھکرا دیا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ آ گئے جیسا کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت دی ہے یہ اپنے اسلام سے پہلے کے زمانے میں مکہ کے بڑے مالداروں میں شمار ہوتے تھے ، نہایت خوش لباس وخوش طعام تھے، اچھے سے اچھا پہنتے اور اچھے سے اچھا کھاتے تھے، لیکن جب مسلمان ہو گئے تو سارے عیش وتنعم پر لات ماردی، اللہ اور اس کے رسول کے عشق میں ایسے رنگ گئے کہ دنیا اور دنیا کی چیزوں سے نفرت کرنے لگے ، زہد اختیار کر لیا ، یہاں تک کہ غزوہ احد کے موقع پر جام شہادت نوش کر کے واصل بحق ہو گئے ، شہادت کے وقت ان کی عمر چالیس سال یا اس سے کچھ زیادہ تھی۔
حدیث سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ حضرت مصعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رو پڑنا، ان کی خستہ حالی کے تئیں رحم وشفقت کے جذبات کے تحت تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو کبھی اپنی قوم کی آنکھوں کا تارا تھا، عیش و راحت کی زندگی گزارتا تھا اور اب اس حالت کو پہنچ گیا ہے کہ بدن پر صرف ایک پیوند لگی چادر لپیٹے اپنا وقت گزار رہا ہے۔ لیکن یہ بات اس واقعہ کے منافی معلوم ہوتی ہے جس کا ذکر پیچھے بھی ایک روایت میں گزر چکا ہے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھردری چارپائی پر لیٹے ہوئے دیکھا جس کے بان کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر پڑ گئے تھے تو اس وقت رو پڑے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مشقت بھری زندگی کے ساتھ فارس و روم کے بادشاہوں کی زندگی کا مواز نہکیا۔ جو اللہ کے سرکش و نافرمان اور باغی بندے ہونے کے باوجود عیش وعشرت کی زندگی گزارتے تھے۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تھا کہ تم ابھی تک سوچنے سمجھنے کے اس مقام سے نہیں بڑے ہو، بندہ اللہ ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ان بادشاہان دنیا کو بس دنیا کی نعمتیں ملیں اور ہمیں آخرت کی نعمتوں اور سعادتوں سے نوازا جائے؟ اولیٰ یہ ہے کہ حضرت مصعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کو فرط مسرت سے رونے پر محمول کیا جائے کہ اپنی امت کے لوگوں کو دنیا سے زہد اختیار کر کے عقبی کی طرف متوجہ دیکھ کر مارے خوشی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اگر اس رونے کو غم وحسرت ہی پر محمول کیا جائے تو اس صورت میں یہ کہا جائے گا کہ آپ کا غم دراصل اس بات پر تھا کہ میری امت کے جیسے لوگوں کو ضروریات زندگی کی ایسی چیزیں بھی میسر نہیں ہیں جو دنیا ہی کے لئے ضروری نہیں ہیں بلکہ طاعت وعبادت میں معاون ومددگار بھی ہوتی ہیں جیسے بقدر ضرورت لباس وغیرہ۔ اس تاویل کی تائید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ کیف بکم اذا غدا الخ اور انتم الیوم خیر منکم الخ سے بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ غریب ومفلس شخص کہ جو ضروریات زندگی کی بقدر کفایت چیزوں کا مالک ہو، غنی ومالدار شخص سے بہتر ہے، چنانچہ غنی ومالدار شخص حصول مال و زر کی جدوجہد میں زیادہ مشغولیت کی وجہ سے طاعت وعبادت کے لئے اتنا زیادہ قلبی وجسمانی فراغ وسکون نہیں رکھتا جس قدر کہ وہ غریب ومفلس شخص رکھتا ہے اس اعتبار سے یہ حدیث درحقیقت صراحت کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صبر و استقامت اختیار کرنے والا غریب ومفلس شخص شکر گزار مالدار سے زیادہ افضل ہوتا ہے۔ پس صحابہ جیسی ہستیوں کے تعلق سے کہ جو امت کے سب سے زیادہ مضبوط ایمان وعقیدہ اور کردار کے حامل تھے، مالداری کا یہ حال ہے تو غیر صحابہ کے تعلق سے اس کا کیا حال ہوگا، جو ان کی بہ نسبت ایمان وعقیدہ اور کردار وعمل میں کہیں زیادہ ضعیف ہیں۔ اس کی مؤید وہ حدیث بھی ہے جس کو دیلمی نے فردوس میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مارویت الدنیا عن احد الاکانت خیرۃ لہ بلکہ ملا علی قاری نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد ایک خاص بات یہ کہی ہے کہ عن احد (اسی شخص) کا لفظ عام ہے کہ اس کے مفہوم میں مومن و غیر مومن سب شامل ہیں، لہٰذا دوزخ میں مالدار کافر کی بہ نسبت فقیر ومفلس کافر کا عذاب ہلکا ہوگا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ جب اس دار فانی میں فقر و افلاس نے کافر کو یہ فائدہ پہنچایا تو اس مومن کو دارالتمرار (آخرت میں) کیسے فائدہ نہیں پہنچائے گا جو دنیا میں اپنے فقر و افلاس پر صابر رہا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں