مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ خواب کا بیان ۔ حدیث 542

آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا ذکر

راوی:

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من رآني في المنام فقد رآني فإن الشيطان لا يتمثل في صورتي . ( متفق عليه )

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔" جس شخص نے مجھ کو خواب میں دیکھا اس نے درحقیقت مجھ کو ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت نہیں بن سکتا ۔" (بخاری ومسلم )

تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے مجھ کو خواب میں دیکھا اس نے گویا عالم بیداری میں میرا دیدار کیا ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ اس شخص پر وہ احکام عائد ہوں جو واقعۃ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار و صحبت کی صورت میں ہوتے ہیں ۔ یعنی نہ تو ایسے شخص کو صحابی کہا جائے گا اور نہ اس چیز پر عمل کرنا اس کے لئے ضروری ہوگا جس کو اس نے اپنے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو گا، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث اپنے زمانہ کے لوگوں کے لئے فرمائی میرے زمانہ میں جو شخص مجھ کو خواب میں دیکھے گا اس کو اللہ تعالیٰ ہجرت کی توفیق عطا فرمائے گا ۔ تاکہ وہ مجھ سے آ کر ملے ۔ یا یہ مراد ہے کہ آخرت میں میرا دیدار کرے گا ۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ یہ ارشاد گرامی صلی اللہ علیہ وسلم بمعنی اخبار کے ہے، مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے مجھ کو خواب میں دیکھا اس کو خبر دیدو کہ اس کا خواب حقیقی اور سچا ہے اضغاث احلام میں سے نہیں ہے کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔ یعنی اس کی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ کسی کے خواب میں آئے اور اس کے خیال میں یہ بات ڈالے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور اس طرح وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ جھوٹ لگائے ۔
بعض محققین نے لکھا ہے کہ شیطان حق تعالیٰ کی ذات کے بارے میں جھوٹ دکھا سکتا ہے ، یعنی دیکھنے والے کو اس خیال و وسوسہ میں مبتلا کر سکتا ہے کہ یہ حق تعالیٰ کی صورت ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت ہرگز نہیں بن سکتا ۔ اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر جھوٹ لگا سکتا ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت و راستی کے مظہر ہیں۔ جب کہ شیطان لعین ضلالت و گمراہی کا مظہر ہے اور ہدایت و ضلالت کے درمیان پانی اور آگ کی نسبت ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، اس کے برخلاف حق تعالیٰ کی ذات الٰہی صفات ہدایت و اضلال اور صفات متضادہ کی جامع ہے علاوہ ازیں صفت الوہیت ایسی صفت ہے جس کا مخلوقات میں سے کسی کا دعوی کرنا صریح البطلان ہے اور محل اشتباہ نہیں ہے، جب کہ وصف نبوت اس درجہ کی صفت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص الوہیت کا دعوی کرے تو اس سے خرق عادات صادر ہو سکتا جب کہ اگر کوئی شخص نبوت کا دعوی کرے تو اس سے معجزہ کا ظاہر ہونا ممکن ہی نہیں ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں