مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ آداب کا بیان۔ ۔ حدیث 840

اپنے نسب پر گھمنڈ نہ کرو

راوی:

وعن عقبة بن عامر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنسابكم هذه ليست بمسبة على أحد كلكم بنو آدم طف الصاع بالصاع لم تملؤوه ليس لأحد على أحد فضل إلا بدين وتقوى كفى بالرجل أن يكون بذيا فاحشا بخيلا . رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان

" اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا نسب کوئی ایسی چیز نہیں جس کے سبب تم کسی کو برا کہو اور عار دلاؤ تم سب کے سب آدم کی اولاد ہو جس طرح ایک صاع دوسرے صاع کے برابر ہوتا ہے کہ جس کو تم نے بھرا نہ ہو کسی کو کسی پر کوئی فضیلت و ترجیح نہیں ہے علاوہ دین اور تقوی کے آدمی کی برائی کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ زبان دراز اور فحش گوئی اور لچر باتیں کرنے والا بخیل ہو۔ اس روایت کو احمد اور شعب الایمان میں بہیقی نے نقل کیا ہے۔
تشریح
" صاع" سے مراد مپانہ یا پیمانہ ہے ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح ایک صاع یعنی مپانہ اپنے ہی جیسے دوسرے مپانہ کے بالک برابر ہوتا ہے یا ان دویوں مپانوں میں جو چیزیں بھری ہوتی ہیں وہ یکساں اور برابر مقدار وزن کی حامل ہوتی ہیں کہ ان کو ایک دوسرے پر کوئی ترجیح حاصل نہیں ہوتی اسی طرح تمام انسان ایک باپ آدم کی اولاد ہونے کی حثییت میں برابری کا درجہ رکھتے ہیں اور کسی انسان کو دوسرے انسان پر محض نسب کے اعتبار سے کوئی فوقیت و برتری حاصل نہیں ہوتی۔
" تقوی" سے مراد شرک جلی وخفی سے بچنا اور صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنا ہے اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ انسان، انسان ہونے کی حثییت سے ایک دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں رکھتا بلکہ انسانی جبلت اور نفسانی تقاضوں کے اختیار سے تمام انسان، نقصان و خسران کے مقام پر ہوتے ہیں البتہ جو انسان ایمان و اسلام کی دولت رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی کمال تقوی و دین داری کے حامل ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ آخرت کے نقصان سے محفوظ ہوتے ہیں بلکہ انسانیت کا اعلی مظہر ہونے کی وجہ سے دوسرے لوگوں پر فضیلت و برتری بھی رکھتے ہیں چنانچہ اسی حقیقت کی طرف اس آیت کریمہ میں اشارہ فرمایا گیا ہے " وَالْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ Ą " 103۔ العصر : 1)۔قسم ہے زمانے کی انسان بڑے ہی خسارہ میں ہے علاوہ ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث نے طیبی کے حوالہ سے حدیث کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ " طف صاع " کے معنی ہیں وہ پیمانہ جو پورا بھرا ہوا ہو لہذا انسان کو طف صاع کے ساتھ تشبیہ دے کر گویا اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ تم تمام انسانوں کے باپ چونکہ آدم ہیں اور آدم کو خاک سے پیدا کیا گیا ہے اس لئے تم سب اپنے اصل نسب کے اعتبار سے نقصان اور درجہ کمال تک نہ پہنچنے میں ایک دوسرے کے بالکل قریب اور برابر ہو کہ ہر انسان اپنی طبعی جبلت کی وجہ سے نقصان اور ٹوٹے میں مبتلا ہے ہاں وہ انسان اس نقصان اور ٹوٹے سے محفوظ ہیں جو ایمان و اسلام کے حامل اور تقوی و کمال دین داری کے مرتبہ پر فائز ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ صرف تقوی اور کامل دین داری ایک ایسا وصف ہے جو کسی انسان کو معزز و مکرم اور افضل و برتر قرار دے سکتا ہے جو شخص مومن اور متقی و پرہیزگار ہے اور دین دار کے اعلی مقام پر فائز ہے بس وہی انسان فضیلت کا حامل ہو سکتا ہے اور اس وصف کے علاوہ نہ نسب کی وجہ سے کوئی انسان برتر قرارپا سکتا ہے اور نہ محض خاندانی وجاہت و شوکت اور نسلی و قبائل شرف و امتیاز کسی انسان کو دوسرے انسانوں پر فوقیت و برتری کا درجہ دے سکتا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں