مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ اللہ کے ساتھ اور اللہ کے لیے محبت کرنے کا بیان ۔ حدیث 890

کسی مسلمان کو حقیر نہ سمجھو

راوی:

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره التقوى ههنا . ويشير إلى صدره ثلاث مرار بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه . رواه مسلم

" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ہر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا دینی بھائی ہے لہذا مسلمان ، مسلمان پر ظلم نہ کرے اس کی مدد و اعانت کو ترک نہ کرے اور اس کو ذلیل و حقیر نہ سمجھے پھر آپ نے اپنے سینے کی طرف تین دفعہ اشارہ فرما کر کہا کہ پرہیزگاری اس جگہ ہے نیز فرمایا کہ مسلمان کے لئے اتنی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو ذلیل و حقیر کرے یعنی کسی مسلمان بھائی کو ذلیل و حقیر کرنا بجائے خود اتنی بڑی برائی ہے کہ وہ کوئی گناہ نہ بھی کرے تو اسی کی ایک برائی کی وجہ سے مستوجب مواخذہ ہوگا۔ (اور یاد رکھو کہ ) مسلمان پر مسلمان کی ساری چیزیں حرام ہیں جیسے اس کا خون، اس کا مال، اور اس کی عزت و آبرو۔ (مسلم)

تشریح
اس کو ذلیل حقیر نہ سمجھے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان بھائی کے عیب کو اچھال کر اور اس کی برائیوں کو لوگوں کے سامنے بیان کر کے ان کو رسوا اور بدنام نہ کرے اس کے ساتھ بدزبانی اور سخت کلامی نہ کرے اور کوئی مسلمان خواہ کتنا ہی غریب و محتاج ہی کیوں نہ ہو کتنا ہی ضعیف و نا تو اں اور کتنا ہی نامراد و خستہ حال ہو اس کا مذاق نہ اڑائے کیونکہ کسی کو کیا معلوم کہ جو مسلمان ظاہر طور پر نہایت خستہ حال ہے اور محتاج ہے وہ اللہ کے نزدیک اس کا مقام کیا ہے اور انجام و مال کے اعتبار سے وہ کس درجہ کا ہے اس حقیقت کو کسی صورت میں فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جو بھی شخص لاالہ الا اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کے رسول کا امتی ہے وہ عزت والا ہے اور قابل تکریم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا " آیت (وللہ العزۃ ولرسولہ)۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ۔ ۔ لہذا کسی مومن کی عزت ایمانی کو کسی حال میں مجروح نہ کرنا چاہیے اور خصوصا مومن جن کے چہرے مہرے علم دین کی علامت اور عبادت الٰہی کا نور جھلکتا ہو ان کی تعظیم و توقیر کو بطریق اولی ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے اکثر لوگ اور خصوصا دنیا دار جو نفس کی ظلمت و غفلت میں مبتلا ہوتے ہیں عام طور پر فقراء و مساکین اور غریب وبے کس مسلمانوں کے وبال میں گرفتار رہتے ہیں کیونکہ وہ ان کو ذلیل و کمتر سمجھتے ہیں اور ان بے چاروں کے ساتھ انتہائی ترشی اور حقارت کا معاملہ کرتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر مومن کو ذلیل و حقیر کرنے کا عذاب اپنے سر لیتے ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ ان لوگوں کو دنیا میں بھی عزت و اقبال مندی سے نوازتا ہے اور آخرت میں بھی نجات عطا کرے گا جو اس کے غریب و مسکین اور ضعیف وبے کس بندوں کے ساتھ محبت و احترام کا برتاؤ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ نے مسکین وغرباء کی محبت حاصل ہونے کی دعا مانگا کرتے تھے نیز آپ کو اللہ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ فقراء مسکین کی ہم نشینی اختیار فرمائیں جیسا کہ سورت کہف میں مذکور ہے۔
" پرہیزگاری اس جگہ ہے " کا مطلب یہ ہے کہ متقی یعنی وہ شخص جو شرک اور گناہوں سے اجتناب وپرہیز کرتا ہے اس کو کسی بھی صورت میں حقیر و کم تر نہیں سمجھنا چاہیے یا یہ مراد ہے کہ تقوی کا مصدور مخزن اصل میں سینہ یعنی دل ہے اور وہ ایک ایسی صفت ہے جو باطن کی ہدایت اور نورانیت سے پیدا ہوتی ہے اس صورت میں کہا جائے گا کہ ان الفاظ کا مقصد ماقبل جملہ کی تاکید و تقویب ہے اور مطلب یہ ہوگا کہ جو چیز کسی انسان کو معزز و مکرم بناتی ہے وہ تقوی ہے اور جب تقوی کا تعلق باطن سے ہے اور اس کی جگہ دل ہے جو ایک پوشیدہ چیز ہے کہ جس کو انسان ظاہری طور پر نہیں دیکھ سکتا تو پھر کسی مسلمان کو کیونکہ حقیر و ذلیل کہا جا سکتا ہے درآنحالیکہ اس کی حقیقت معلوم نہیں ہے کہ ایک بات یہ بھی کہی جا سکتی ہے کہ تقوی کی جگہ دل کو قرار دے کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ جس کے دل میں تقوی ہو وہ کسی مسلمان کو حقیر و ذلیل نہ کرے کیونکہ کوئی بھی متقی کسی مسلمان کو ذلیل کرنے والا نہیں ہو سکتا یہ مراد اگرچہ بعض علماء نے لکھی ہے لیکن پہلے معنی زیادہ صحیح اور زیادہ موزون ہیں ۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان ایسا کوئی کام نہ کرے اور نہ اپنی زبان سے کوئی ایسی بات نکالے جس سے کسی مسلمان بھائی کی خون ریزی ہو یا اس کا مال تلف و ضائع ہو اور یا اس کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچے۔ یہ حدیث اپنے الفاظ کے اختصار لیکن مفہوم و معنی کی وسعت کے اعتبار سے جوامع الکلم میں سے ہے اللہ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصی عطیہ ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں