مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ معجزوں کا بیان ۔ حدیث 465

عمار ابن یاسر کے بارے میں پیشن گوئی

راوی:

وعن أبي قتادة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لعمار حين يحفر الخندق فجعل يمسح رأسه ويقول : " بؤس بن سمية تقتلك الفئة الباغية " . رواه مسلم

" اور حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمار ابن یاسر خندق کھود رہے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سر پر ہاتھ پھیر پھیر کر ان کے سر سے دھول مٹی جھاڑتے جاتے تھے اور یہ فرماتے تھے ہائے سمیہ کے بیٹے عمار ابن یاسر ) کی سختی ومصیبت تمہیں باغیوں کا گروہ قتل کر ڈالے گا ۔ " ( مسلم )
تشریح : " سمیۃ " ایک صحابی خاتون کا نام ہے ، انہوں نے بالکل شروع ہی میں مکہ میں اسلام قبول کیا تھا اور دوسرے مسلمانوں کی طرح یہ بھی کفار مکہ کے ظلم وستم کا تختہ مشق بنی تھیں ، ایک عورت ہو کر بھی انہوں نے ظالموں کے ہاتھوں سخت سے سخت اذیتیں اور مصیبتیں سہیں لیکن دین کے راستہ سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوئیں ، آخر کار لعین ابوجہل نے ای دن ان کی شرمگاہ میں خنجر مار کر ان کو شہید کر دیا ، حضرت عمار ابن یاسر اسلام کی ان ہی مایہ ناز خاتون کے عظیم سپوت تھے ۔ غزوہ احزاب کے موقع پر جب مدینہ کی حفاظت کے لئے صحابہ کرام خندق کھود رہے تھے تو حضرت عمار ابن یاسر بھی پوری جان فشانی اور محنت کے ساتھ اس کام میں مصروف تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا ان کی محنت وشفقت کا احساس فرمایا اور پھر عالم الغیب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کر دیا کہ عمار کی موت باغیوں کے ہاتھوں ہوگی ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک عمار کے تئیں جذبہ ترحم ومحبت سے لبریز ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر مذکورہ حسرتنا تک الفاظ جاری ہوگئے ان الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا تو عمار کی سختی ومصیبت کو کیا مگر اصل مخاطب خود عمار جس کا مطلب یہ تھا کہ عمار مجھے تمہارے اوپر بڑا ترس آرہا ہے ، تمہیں ایک دن ایسی سختی ومصیبت کا سامنا بھی کرنا ہوگا کہ باغیوں کی ایک جماعت جس نے امام برحق اور خلیفہ وقت کے خلاف علم بغاوت بلند کر ہوگا ، تمہیں شہید کر دے گا ۔

یہ حدیث شیئر کریں