مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ معجزوں کا بیان ۔ حدیث 469

حضرت جبرئیل علیہ السلام اور فرشتوں کی مدد کا معجزہ

راوی:

وعن عائشة قالت : لما رجع رسول الله صلى الله عليه و سلم من الخندق وضع السلاح واغتسل أتاه جبريل وهو ينفض رأسه من الغبار فقال قد وضعت السلاح والله ما وضعته أخرج إليهم قال النبي صلى الله عليه و سلم فأين فأشار إلى بني قريظة فخرج النبي صلى الله عليه و سلم . متفق عليه وفي رواية للبخاري قال أنس : كأني أنظر إلى الغبار ساطعا في زقاق بني غنم موكب جبريل عليه السلام حين سار رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى بني قريظة

" اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق سے واپس آکر ( اپنے جسم سے ) ہتھیار اتا رے اور غسل ( کا ارادہ ) کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے ، درآنحالیکہ وہ اپنے سر سے ( غزوہ خندق میں پڑی ہوئی ) گرد وغبار جھاڑ رہے تھے ۔ اور کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہتھیار اتار کر رکھ دئیے ہیں اور قسم اللہ کی میں نے ابھی ہتھیار نہیں اتارے ہیں ( جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ ہی رہے ہیں ( چلئے ابھی تو ان کافروں پر لشکر کشی کرنی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کہاں چلنا ہے ، کس پر لشکر کشی کرنی ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بنی قریظہ کی طرف اشارہ کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فورا مسلح ہو کر اپنے صحابہ کے ساتھ قریظہ کی طرف روانہ ہوگئے ( جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عطا فرمائی ) اور بخاری کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ ۔ گویا میں اس غبار کو اب بھی دیکھ رہا ہوں جو بنو غنم کے کوچہ میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ہمراہ چلنے والی ( سوارفرشتوں کی ) جماعت کے سبب اس وقت اٹھ رہا تھا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کی طرف جار ہے تھے ۔ "

تشریح :
" غسل کیا تھا " سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کا کیا ارادہ کیا تھا اور نہانے جا ہی رہے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آگئے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر رہے تھے ، سر کا ایک حصہ دھونا باقی تھا ، گویا اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل پورا نہیں ہوا تھا ۔ درآنحالیکہ وہ اپنے سر سے ( غزوہ خندق میں پڑی ہوئی ) گردوغبار جھاڑ رہے تھے ۔" اس میں " ہو " کی ضمیر حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرف راجع ہو سکتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی ، حاصل یہ کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کا آنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بنی قریظہ سے جنگ کے لئے روانہ ہونا غزوہ خندق سے واپسی کے فورا بعد کا واقعہ ہے ۔
" بنو قریظہ " سے مراد یہودیوں کی وہ قوم ہے جو مدینہ شہر سے باہر تین چار میل کے فاصلہ پر آباد تھی ، وہاں ان کی حویلیاں تھیں اور ایک بہت مضبوط قلعہ بھی تھا ، انہوں نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مصالحانہ معاہدہ کے باوجود غزوہ خندق میں دشمنوں کا ساتھ دیا اور مسلمانوں کی تباہی کا پورا منصوبہ بنایا تھا ۔ بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جنگ کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عطا فرمائی اس کی تفصیل تاریخ وسیر کی کتابوں میں مذکور ہے ۔
" غنم " انصار کے ایک قبیلہ کا نا ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کی طرف جاتے ہوئے اس قبیلہ کے محلہ سے گزرے تھے اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اس محلہ کے گلی کوچہ میں لوگوں کی آمد ورفت نہیں تھی ، اسی وجہ سے اس کو چہ میں اٹھتا ہوا گردوغبار دیکھ کر حضرت انس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ فرشتوں کالشکر ساتھ چل رہا ہے اور اس کے قدموں سے یہ گردوغبار اٹھ رہا ہے ، نیز غالب گمان یہ ہے کہ فرشتوں کے اس لشکر کے کمانڈر حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے جو یا تو لشکر کے ساتھ ہی تھے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل رہے تھے ۔
اس حدیث میں جو چیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ کو ظاہر کرتی ہے وہ ایک تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کا مسلح ہو کر اپنے لشکر سمیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے جنگ کے لئے آنا ہے اور دوسری چیز فرشتوں کے قدموں سے اٹھتے ہوئے گردوغبار کا نظر ہے جب کہ خود وہ فرشتے کسی کو نظر نہیں آرہے تھے ۔

یہ حدیث شیئر کریں