مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ حضرت علی بن ابی طالب کے مناقب کا بیان ۔ حدیث 717

ایک مثال ایک پیش گوئی

راوی:

وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " فيك مثل من عيسى أبغضته اليهود حتى بهتوا أمه وأحبته النصارى حتى أنزلوه بالمنزلة التي ليست له " . ثم قال : يهلك في رجلان : محب مفرط يقرظني بما ليس في ومبغض يحمله شنآني على أن يبهتني . رواه أحمد

اور حضرت علی کہتے ہیں کہ (ایک دن ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو فرمایا " تم میں عیسیٰ علیہ السلام سے ایک طرح کی مشابہت ہے یہودیوں نے ان (عیسیٰ علیہ السلام ) سے بغض رکھا تو اتنا زیادہ رکھا کہ ان کی ماں (مریم علیہ السلام ) پر (زنا کا ) بہتان باندھا اور عیسائیوں نے ان سے محبت و وابستگی قائم کی تو اتنی (زیادہ اور غلو کے ساتھ قائم کی ) کہ ان کو اس مرتبہ ومقام پر پہنچا دیا جو ان کے لئے ثابت نہیں ہے (یعنی ان کو " اللہ " یا ابن اللہ " قرار دے ڈالا ) یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت علی نے کہا (مجھے یقین ہے کہ اس ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح میرے بارے میں بھی ) دو شخص یعنی دو گروہ اس طرح ہلاک (یعنی گمراہ ) ہوں گے کہ ان میں سے ایک تو جو مجھ سے محبت رکھنے والا ہوگا اور اس محبت میں حد سے متجاوز ہوگا ، مجھ کو ان خوبیوں اور بڑائیوں کا حامل قرار دے گا جو مجھ میں نہیں ہونگی ، اور ایک جو مجھ سے بغض وعناد رکھنے والا ہوگا ، میری دشمنی سے مغلوب ہو کر مجھ پر بہتان باندھے گا ۔" (احمد )

تشریح :
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں جو پیش گوئی فرمائی اور جس کی طرف خود حضرت علی نے واضح طور پر اشارہ کیا وہ پوری ہو کر رہی ۔ روافض اور شیعوں نے حب علی میں حد سے اس قدر تجاوز کیا کہ تمام صحابہ پر یہاں تک کہ انبیاء پر ان کی فضیلت کے قائل ہوئے بلکہ بعض طبقوں (جیسے نصیریوں وغیرہ) نے تو حضرت علی کو مقام الوہیت تک پہنچا دیا ، ان کے مقابلہ پر دوسرا گروہ وہ خارجیوں کا پیدا ہوا ، وہ حضرت علی کی دشمنی میں حد تک بڑھ گئے کہ کوئی بڑے سے بڑا بہتان ایسا نہیں چھوڑا جو ان کی پاکیزہ شخصیت پر انہوں نے نہ باندھا ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ محبت وعقیدت وہی مستحسن ومطلوب ہے جو حد سے زیادہ متجاوز نہ ہو اور عقل وشریعت کے مسلمہ اصول کے مطابق ہو، ایسی محبت وعقیدت جو حد سے متجاوز ہو درحقیقت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے اور غیر معتدل ہونے کے سبب راہ مستقیم سے باہر کر دیتی ہے ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کی محبت وعقیدت رکھنے والے شخص کو جو اگرچہ بظاہر مسلمان ودیندار نظر آتا ہے " گمراہ انسان" کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔
اہل سنت والجماعت کو جس چیز نے راہ مستقیم پر گامزن کر رکھا ہے وہ محبت وعقیدت کے باب میں ان کا اعتدال وتوازن ہے کہ وہ افراط اور تفریط دونوں سے محفوظ ہیں ، بہرحال اہل ایمان واسلام کی زندگی کا سرمایہ سعادت دو چیزیں ہیں ایک تو خاندان نبوت کی محبت اور دوسری اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم جو شخص اس سرمایہ سعادت کو حاصل کرکے اپنی اور عقبی بنانا چاہئے اس کو لازم ہے کہ ان دونوں کے درمیان اعتدال وتوازن رکھے اور اسی اعتدال وتوازن کے ساتھ ان دونوں کی محبت کو اپنے اندر جمع کرے ۔
امام احمد نے ایک روایت نقل کی ہے کہ سیدنا علی نے فرمایا :
یحبنی اقوام حتی یدخلوا النار فی حبی ویبغضنی اقوام حتی یدخلوا النار فی بغضی ۔"
" کچھ گروہ مجھ سے محبت رکھیں گے یہاں تک کہ میری محبت (میں غلو) کے سبب ان کو دوزخ میں ڈالا جائے گا اور کچھ کروں مجھ سے دشمنی رکھیں گے یہاں تک کہ میری دشمنی کے سبب وہ دوزخ میں جائیں گے ۔"
امام احمد نے حضرت علی کی یہ دعا نقل کی ہے ۔
اللہم العن کل مبغص لنا وکل محب لنا غال :
" الہٰی !ہم سے دشمنی رکھنے والوں پر لعنت کر اور ہمارے غالی محبین پر بھی لعنت کر ۔"

یہ حدیث شیئر کریں