مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ یمن اور شام اور اویس قرنی کے ذکر کا باب ۔ حدیث 971

شام کی فضیلت

راوی:

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : " إنها ستكون هجرة بعد هجرة فخيار الناس إلى مهاجر إبراهيم " . وفي رواية : " فخيار أهل الأرض ألزمهم مهاجر إبراهيم ويبقى في الأرض شرار أهلها تلفظهم أرضوهم تقذرهم نفس الله تحشرهم النار مع القردة والخنازير تبيت معهم إذا باتوا وتقيل معهم إذا قالوا " . رواه أبو داود

اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی، پس بہترین شخص وہ ہوگا جو اس جگہ ہجرت کر کے جائے گا جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام ہجرت کر کے گئے تھے ۔ (یعنی شام میں اور یہاں وہ اس وقت ہجرت کر کے آئے تھے ، جب انہوں نے اپنے آبائی ملک عراق سے ترک وطن کیا تھا اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ روئے زمین کے بہترین لوگ وہ ہوں گے جو اس جگہ ہجرت کرکے جانے کو خوب لازم پکڑیں گے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام ہجرت کر کے گئے تھے (یعنی ملک شام) اور (اس وقت ) روئے زمین پر اس کے بدترین لوگ یعنی کفار وفجار رہ جائیں گے جن کو ان کے ملک سے نکال پھینکیں گے، اللہ کی ذات ان کو پلید سمجھے گی اور آگ ان کو سوروں اور بندروں کے ساتھ اکٹھا کرکے ہانک لے جائے گی اور وہ آگ انہیں کے ساتھ رات گزارے گی جہاں ان کی رات آئے گی اور ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے ۔ " (ابو داؤد )

تشریح :
" ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی " یعنی ایک ہجرت تو یہ ہے کہ لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر مدینہ آگئے ہیں اور پھر آخر زمانہ میں ایک ہجرت اس وقت ہوگی جب لوگ اپنے اپنے دین کی حفاظت اور اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے لئے ملک شام کو ہجرت کریں گے اور بعض حضرات نے یہ مطلب لکھا ہے کہ مدینہ کی یہ ہجرت کوئی آخری ہجرت نہیں ہے ، ہجرتیں بار بار ہوں گی اور بہت ہوں گی، حدیث کے الفاظ وسباق کی روشنی میں یہ مطلب زیادہ موزوں اور نہایت صحیح معلوم ہوتا ہے گویا اس زمانہ کی طرف اشارہ مقصود ہے جب قیامت بالکل قریب ہوگی، ہر سو فتنوں اور شرور کا دور دورہ ہوگا، شہروں اور آبادیوں میں اہل کفر وفسق کا غلبہ ہوجائے گا ، اسلامی ممالک میں بھی دین کے حامی نیکی کے حامل اور خدائی احکام وہدایات پر قائم رہنے والے بہت کم رہ جائیں گے ، یہاں تک کہ شام کے شہر و قریہ ایک محفوظ ومامون قلعہ کی مانند باقی بچیں گے جن کی حفاظت پر اسلام کے لشکر مامون ہونگے ۔ جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرے گا اور حق کو مدد پہنچائے گا اور آخر کار اسی لشکر کے لوگ دجال کا مقابلہ کر کے اس کو نیست ونابود کردیں گے پس اس زمانہ میں جو شخص اپنے دین و ایمان کو محفوظ رکھنا چاہے گا وہ ملک شام کو ہجرت کر کے اس کے کسی شہر یا قریہ میں جابسے گا ۔
" پس بہترین شخص وہ ہوگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " یہ گویا ماسبق جملہ میں جو اجمال تھا اس کی تفصیل ہے ، مطلب یہ کہ دین وایمان کی حفاظت کے لئے ملک شام کو ہجرت کا سلسلہ شروع ہوگا تو جن علاقوں اور شہروں میں اہل کفر و فسق کا غلبہ وتسلط ہوچکا ہوگا، وہاں کے اللہ ترس دین پسند اور اپنے ایمان کو ہر حالت میں محفوظ رکھنے والے بہترین لوگ اپنا اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت کر جائیں گے، ہاں جن لوگوں کے ایمان میں ضعف ہوگا اور جو دین کے اعتبار سے ناکارہ و کمزور ہوں گے وہ اپنے گھر بار اپنی جائداد ودولت وغیرہ کی محبت وطمع میں اور اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف لڑائی سے اپنی جان بچانے کے لئے اپنے وطن ہی میں پڑے رہیں گے اور ہجرت کرکے چلے جانے والوں کے وارث وجانشین بن جائیں گے پس وہ اپنی طبیعتوں اور نفسوں کی خست اور اپنے دین کی کمزوری کے سبب نہ صرف پاکیزہ نفسوں کے نزدیک ایک گھناؤ نی وذلیل چیز کی مانند ہوں گے ، بلکہ ان کی زمینیں ان کا ملک اور ان کا وطن تک ان سے بیزار ہوجائے گا کہ انہیں کسی جگہ سکون وقرار نہیں ملے گا ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر مارے مارے پھریں گے ، ان کی سب سے بڑی بدبختی یہ ہوگی کہ خود حق تعالیٰ تو ان کو نہایت ناپسند رکھے گا ان کو اپنی رحمت سے دور کردے گا اپنے محل کرامت سے ان کا تعلق منقطع کردے گا اور ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو کوئی شخص کسی ایسی چیز کے ساتھ کرتا ہے جس سے وہ گھن کھاتا ہے اور جس سے اس کی طبیعت نفرت کرتی ہو اور یہ اسی کا نتیجہ ہوگا کہ ان لوگوں کو ہجرت کی توفیق نصیب نہیں ہوگی اور اللہ ان کو انہی کے ملکوں اور شہروں میں دشمنان دین (کفار ) کے ساتھ پڑا رہنے دے گا گویا حق تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہوگا جو قرآن کریم کی اس آیت میں فرمایا گیا ہے ۔
ولکن کرہ اللہ انبعاثہم فثبطہم وقیل اقعدوا مع القعدین :
لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے جانے کو پسند نہیں کیا اس لئے ان کو توفیق نہیں دی اور (بحکم تکوینی) یوں کہہ دیا گیا کہ اپاہج لوگوں کے ساتھ تم بھی یہاں ہی دھرے رہو۔ "
" اللہ تعالیٰ کی ذات ان کو پلید سمجھے گی اور آگ ۔ ۔ ۔ ۔ " ان کے معنی ملا علی قاری نے تو یہ لکھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ان کو سخت ناپسند رکھے گی اور آگ کو ان پر مسلط کردے گی جو دن رات ان کے ساتھ رہے گی اور ان کو کافروں کے ساتھ کہ اپنے بڑھاپے کے اعتبار سے سوروں اور بندروں کی مانند ہوں گے جمع کرے گی اور ہانک کر چلے گی اور حضرت شیخ نے یہ لکھا ہے : ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ سخت ناپسند رکھے گا اور فتنے کی آگ کہ جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ ہوگی یا آگ کہ جو اس وقت بندروں اور سوروں کے ساتھ پیدا ہوگی ان سب کو ناپسند کرے گی اور ہانک کر لے چلے گی، نیز " سوروں اور بندروں " سے یا تو ان کی حقیقت اور صورت مراد ہے یا ان کی سیرت وخصلت اور ان کے عادات واطوار کا اختیار کرنا مراد ہے اور زیادہ بدخو وبد کردار اور کفار مراد ہیں جو بندر اور سور کی مانند ہیں ،
" اور ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " قیلولہ " دوپہر کے سونے کو کہتے ہیں ، حاصل یہ ہے کہ وہ آگ شب وروز ان کے ساتھ رہے گی اور کسی بھی وقت ان سے جدا نہیں ہوگی خواہ وہ کسی حالت میں ہوں ۔

یہ حدیث شیئر کریں