سنن دارمی ۔ جلد اول ۔ زکوة کا بیان ۔ حدیث 1595

کون سا صدقہ افضل ہے۔

راوی:

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سُلَيْمَانُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَوَافَقَتْ زَيْنَبَ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ فَقُلْتُ لِبِلَالٍ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ أَضَعُ صَدَقَتِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ أَوْ فِي قَرَابَتِي فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ فَقَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ

حضرت عبداللہ کی اہلیہ سیدہ زینب بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے خواتین صدقہ دیا کرو خواہ وہ تمہارے زیور کیوں نہ ہو۔ حضرت زینب بیان کرتی ہیں حضرت عبداللہ ان دنوں تنگ دست تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دریافت کرنے کے لے گئے تو زینب نامی ایک انصاری خاتون مجھے ملی اس نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کرنا تھا جو میں نے کرنا تھا میں نے حضرت بلال سے کہا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر بتائیں کہ میں اپنا صدقہ کہاں خرچ کرو کیا عبداللہ پر یا اپنے رشتہ داروں پر حضرت بلال نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے دریافت کیا کون سی والی زینب ہے، حضرت بلال نے عرض کی حضرت عبداللہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو دو طرح کا اجر ملے گا ایک رشتہ داری کا دوسرا صدقہ کرنے کا۔

یہ حدیث شیئر کریں