سنن نسائی ۔ جلد سوم ۔ کتاب الا شربة ۔ حدیث 1966

ہر ایک برتن کی اجازت

راوی: محمود بن غیلان , ابوداؤد حفری و ابواحمد زبیدی , سفیان , منصور , سالم , جابر

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَهَی عَنْ الظُّرُوفِ شَکَتْ الْأَنْصَارُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ لَنَا وِعَائٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا إِذًا

محمود بن غیلان، ابوداؤد حفری و ابواحمد زبیدی، سفیان، منصور، سالم، جابر سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس وقت برتنوں سے ممانعت فرمائی تو قبیلہ انصار کے لوگوں نے شکایت کی اور فرمایا ہم لوگوں کے پاس دوسرے قسم کے برتن نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے میں ممانعت بھی نہیں کرتا۔

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘The adulterer is not a believer at the moment when he is committing adultery, and the wine drinker is not a believer at the moment when he is drinking wine, and the thief is not a believer at the moment when he is stealing, and the robber is not a believer at when he is robbing rand people are looking on.” (Sahih)

یہ حدیث شیئر کریں