سنن نسائی ۔ جلد سوم ۔ کتاب الا شربة ۔ حدیث 1965

ہر ایک برتن کی اجازت

راوی: ابوعلی محمد بن یحیی بن ایوب مروزی , عبداللہ بن عثمان , عیسیٰ بن عبید الکندی خراسانی , عبداللہ بن بریدہ

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ أَيُّوبَ مَرْوَزِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ عُبَيْدٍ الْکِنْدِيُّ خُرَاسَانِيٌّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ إِذْ حَلَّ بِقَوْمٍ فَسَمِعَ لَهُمْ لَغَطًا فَقَالَ مَا هَذَا الصَّوْتُ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَهُمْ شَرَابٌ يَشْرَبُونَهُ فَبَعَثَ إِلَی الْقَوْمِ فَدَعَاهُمْ فَقَالَ فِي أَيِّ شَيْئٍ تَنْتَبِذُونَ قَالُوا نَنْتَبِذُ فِي النَّقِيرِ وَالدُّبَّائِ وَلَيْسَ لَنَا ظُرُوفٌ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَوْکَيْتُمْ عَلَيْهِ قَالَ فَلَبِثَ بِذَلِکَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ثُمَّ رَجَعَ عَلَيْهِمْ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَصَابَهُمْ وَبَائٌ وَاصْفَرُّوا قَالَ مَا لِي أَرَاکُمْ قَدْ هَلَکْتُمْ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرْضُنَا وَبِيئَةٌ وَحَرَّمْتَ عَلَيْنَا إِلَّا مَا أَوْکَيْنَا عَلَيْهِ قَالَ اشْرَبُوا وَکُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ

ابوعلی محمد بن یحیی بن ایوب مروزی، عبداللہ بن عثمان، عیسیٰ بن عبید الکندی خراسانی، عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے کہ اس دوران ایک قوم (جماعت کے) شور و شغب کی آواز سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ کیسی آواز ہے؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ ایک طرح کی شراب پیا کرتے ہیں اس کو پی رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو ان کی جانب روانہ کیا اور بلایا پھر فرمایا تم لوگ کن برتنوں میں نبیذ تیار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ہم نقیر اور دباء میں تیار کرتے ہیں اور ہمارے پاس اس کے علاوہ دوسرے برتن نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہ پیو لیکن اس برتن سے کہ جس میں ڈاٹ لگی ہوئی ہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ روز تک ٹھہرے رہے جس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ کو منظور تھا اس طرف پھر آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ لوگ ایک وباء (شدید بیماری) سے پیلے ہو رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھ کو کیا ہو گیا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ تباہ ہو گئے ہو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگوں کی زمین وبائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم لوگوں پر ایک شراب کو حرام قرار دے دیا ہے مگر جس شراب پر ہم لوگ ڈاٹ لگا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پیو ہر ایک شراب کو لیکن اس شراب سے بچو جو نشہ پیدا کرے۔

Ibn Muhairiz narrated from a man among the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “People among my Ummah will drink Khamr, calling it by another name.” (Sahih)

یہ حدیث شیئر کریں