صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1517

صراط جہنم کا پل ہے

راوی: ابوالیمان , شعیب , زہری , سعید وعطا بن یزید , ابوہریرہ

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ وَعَطَائُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أُنَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّکُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَذَلِکَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ فَيَقُولُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ فَيَتْبَعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ وَيَتْبَعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ وَيَتْبَعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ وَتَبْقَی هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ فِي غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ هَذَا مَکَانُنَا حَتَّی يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا أَتَانَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا فَيَتْبَعُونَهُ وَيُضْرَبُ جِسْرُ جَهَنَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ وَدُعَائُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَبِهِ کَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ أَمَا رَأَيْتُمْ شَوْکَ السَّعْدَانِ قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهَا لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ مِنْهُمْ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمْ الْمُخَرْدَلُ ثُمَّ يَنْجُو حَتَّی إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنْ الْقَضَائِ بَيْنَ عِبَادِهِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنْ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِمَّنْ کَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَمَرَ الْمَلَائِکَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلَامَةِ آثَارِ السُّجُودِ وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَی النَّارِ أَنْ تَأْکُلَ مِنْ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدْ امْتُحِشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَائٌ يُقَالُ لَهُ مَائُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ وَيَبْقَی رَجُلٌ مِنْهُمْ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَی النَّارِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَکَاؤُهَا فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنْ النَّارِ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ فَيَقُولُ لَعَلَّکَ إِنْ أَعْطَيْتُکَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِکَ لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهُ فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِکَ يَا رَبِّ قَرِّبْنِي إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ وَيْلَکَ ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَکَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو فَيَقُولُ لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُکَ ذَلِکَ تَسْأَلُنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِکَ لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهُ فَيُعْطِي اللَّهَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهُ فَيُقَرِّبُهُ إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا رَأَی مَا فِيهَا سَکَتَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَسْکُتَ ثُمَّ يَقُولُ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ثُمَّ يَقُولُ أَوَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ وَيْلَکَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَکَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَی خَلْقِکَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّی يَضْحَکَ فَإِذَا ضَحِکَ مِنْهُ أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ فِيهَا فَإِذَا دَخَلَ فِيهَا قِيلَ لَهُ تَمَنَّ مِنْ کَذَا فَيَتَمَنَّی ثُمَّ يُقَالُ لَهُ تَمَنَّ مِنْ کَذَا فَيَتَمَنَّی حَتَّی تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ فَيَقُولُ لَهُ هَذَا لَکَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَذَلِکَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا قَالَ عَطَائٌ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يُغَيِّرُ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ حَتَّی انْتَهَی إِلَی قَوْلِهِ هَذَا لَکَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا لَکَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَفِظْتُ مِثْلُهُ مَعَهُ

ابوالیمان، شعیب، زہری، سعید وعطا بن یزید، ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم اپنے پروردگار کو قیامت کے دن دیکھیں گے آپ نے فرمایا کہ تمہیں آفتاب دیکھنے سے نقصان پہنچتا ہے جبکہ اس پر بادل نہ ہوں لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا کہ کیا تمہیں چاند دیکھنے سے لیلۃ القدر میں تکلیف ہوتی ہے جبکہ اس پر بادل نہ ہوں لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اسی طرح دیکھو گے اللہ لوگوں کو جمع کرے گا اور فرمائے گا کہ جو شخص جس چیز کی عبادت کرتا تھا اس کے ساتھ ہوجائے چنانچہ سورج کی عبادت کرنے والا سورج کے ساتھ اور چاند کی عبادت کرنے والا چاند کے ساتھ اور بتوں کی عبادت کرنے والا بتوں کے ساتھ اور یہ امت باقی رہ جائے گی جس میں اس امت کے منافق بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس کے علاوہ صورت میں آئے گا جس میں وہ جانتے تھے پھر اللہ فرمائے گا کہ میں تمہارا پروردگار ہوں تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ہم اسی جگہ رہیں گے جب تک کہ ہمارا پروردگار ہمارے پاس نہ آئے گا۔جب ہمارا پروردگار آۓ گا تو ہم لوگ اس کو پہچان لیں گے پھر اللہ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس میں وہ جانتے تھے اور کہے گا میں تمہارا پروردگار ہوں وہ لوگ کہیں گے کہ تو ہمارا پروردگار ہے اور وہ لوگ اس کے ساتھ ہوجائیں گے اور جہنم کا پل قائم کیا جائے گا سب سے پہلے میں گزروں گا اور تمام رسولوں کی دعا اس دن اللھم سلم سلم ہوگی اور اس کے ساتھ سعدان کے کانٹے کی طرح کانٹے ہوں گے کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھیں ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں یا رسول اللہ ۔ آپ نے فرمایا کہ وہ سعدان کے کانٹے کی طرح ہوں گے مگر اس کی بڑائی کی مقدر اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ کانٹے ان کو ان کے اعمال کے موافق اچک لیں گے ان میں سے بعض اپنے عمل کے باعث ہلاک ہونے والے ہوں گے اور بعض کے اعمال رائی کے برابر ہوں گے وہ نجات پائے گا یہاں تک کہ جب اللہ اپنے بندوں کے فیصلے سے فارغ ہوجائے گا اور لا الہ اللہ کی شہادت دینے والوں میں سے جس شخص کو نکالنا چاہے گا فرشتوں کو حکم دے گا کہ اس کو جہنم سے نکالیں، فرشتے اس کو سجدے کے نشانات کے باعث پہچان لیں گے اور اللہ نے آگ کو حرام کردیا ہے کہ وہ مسلمان کے سجدے کے نشان کو کھائے۔چنانچہ فرشتے ان کو نکال لیں گے اس حال میں کہ وہ کوئلہ کی طرح ہوں گے پھر ان پر پانی بہایا جائے گا جسے ماء الحیات کہا جاتا ہے اور وہ اس طرح تروتازہ ہوجائیں گے کہ جس طرح کہ دریا کے کنارے کوڑے کرکٹ میں دانہ لگتا ہے ایک شخص دوزخ کی طرف رخ کرکے کھڑا رہ جائے گا اور عرض کرے گا کہ اے پروردگار اس کی ہوا نے جھلسادیا ہے اور اس کی چمک نے جلادیا ہے اس لئے میراچہرہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے پس وہ اللہ سے دعار کرتا رہے گا اللہ فرمائیں گے کہ اگر میں تم کو یہ دیدوں تو مجھے امید ہے کہ تو اس کے علاوہ بھی مانگے گا وہ عرض کرے گا کہ تیری عزت کی قسم میں اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا چنانچہ اس کا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے گا پھر اس کے بعد عرض کرے گا کہ اے رب مجھے جنت کے دروازے کے قریب کردے گا اللہ فرمائیں گے کیا تو نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس کے علاوہ مجھ سے کچھ نہیں مانگے گا اے آدم تجھ پر افسوس ہے کہ تو نے عہد شکنی کی وہ اسی طرح دعا کرتا رہے گا اللہ فرمائے گا کہ مجھے امید ہے کہ اگر میں تجھ کو یہ دیدوں تو اس کے علاوہ تو مجھ سے سوال نہ کرے گا وہ شخص عرض کرے گا کہ تیری عزت کی قسم اب اس کے علاوہ میں تجھ سے کوئی سوال نہ کروں گا پھر اللہ سے عہدو پیمان باندھے گا کہ اس کے سوا کچھ نہیں سوال کرے گا پس اللہ اس کو جنت کے دروازے کے قریب کردے گا پس جب اس چیز کو دیکھے گا جو جنت میں ہے تو جب تک اللہ چاہے گا وہ خاموش رہے گا پھر عرض کیا یا رب مجھے جنت میں داخل کردے۔ پھر اللہ فرمائیں گے کہ تو نے نہیں کہا تھا کہ اب اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا افسوس اے ابن آدم۔ تو نے وعدہ خلاف کیا وہ عرض کرے یا رب مجھے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ بدبخت نہ بنا۔ وہ اسی طرح دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنسے گا جب اللہ ہنسے گا تو جنت میں داخل کردے گا جب وہ جنت میں داخل ہوجائے گا تو اللہ فرمائیں گے کہ اپنی آرزو بیان کر چنانچہ وہ آرزو بیان کرے گا یہاں تک کہ اس کی تمام آرزوئیں ختم ہوجائے گا تو اللہ اس سے فرمائے گا کہ یہ تیری آرزو ہے اور اتنا ہی اور بھی۔ ابوہریرہ نے کہا کہ یہ مرد جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والوں میں ہوگا۔
عطاء کا بیان ہے کہ ابوسعید خدری ابوہریرہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے حدیث میں کوئی اختلاف نہیں کیا، یہاں تک کہ جب ھذالک ومثلہ معہ تک پہنچے تو ابوسعید نے کہا کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ھذا وعشر وامثالہ۔ ابوہریرہ نے کہا کہ میں نے مثلہ معہ کو یاد رکھا۔

Narrated Abu Huraira:
Some people said, "O Allah's Apostle! Shall we see our Lord on the Day of Resurrection?" He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the sun when it is not hidden by clouds?" They replied, "No, Allah's Apostle." He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the moon when it is full and not hidden by clouds?" They replied, No, O Allah's Apostle!" He said, "So you will see Him (your Lord) on the Day of Resurrection similarly Allah will gather all the people and say, 'Whoever used to worship anything should follow that thing. 'So, he who used to worship the sun, will follow it, and he who used to worship the moon will follow it, and he who used to worship false deities will follow them; and then only this nation (i.e., Muslims) will remain, including their hypocrites. Allah will come to them in a shape other than they know and will say, 'I am your Lord.' They will say, 'We seek refuge with Allah from you. This is our place; (we will not follow you) till our Lord comes to us, and when our Lord comes to us, we will recognize Him.
Then Allah will come to then in a shape they know and will say, "I am your Lord.' They will say, '(No doubt) You are our Lord,' and they will follow Him. Then a bridge will be laid over the (Hell) Fire." Allah's Apostle added, "I will be the first to cross it. And the invocation of the Apostles on that Day, will be 'Allahukka Sallim, Sallim (O Allah, save us, save us!),' and over that bridge there will be hooks Similar to the thorns of As Sa'dan (a thorny tree). Didn't you see the thorns of As-Sa'dan?" The companions said, "Yes, O Allah's Apostle." He added, "So the hooks over that bridge will be like the thorns of As-Sa-dan except that their greatness in size is only known to Allah. These hooks will snatch the people according to their deeds. Some people will be ruined because of their evil deeds, and some will be cut into pieces and fall down in Hell, but will be saved afterwards, when Allah has finished the judgments among His slaves, and intends to take out of the Fire whoever He wishes to take out from among those who used to testify that none had the right to be worshipped but Allah.
We will order the angels to take them out and the angels will know them by the mark of the traces of prostration (on their foreheads) for Allah banned the f ire to consume the traces of prostration on the body of Adam's son. So they will take them out, and by then they would have burnt (as coal), and then water, called Maul Hayat (water of life) will be poured on them, and they will spring out like a seed springs out on the bank of a rainwater stream, and there will remain one man who will be facing the (Hell) Fire and will say, 'O Lord! It's (Hell's) vapor has Poisoned and smoked me and its flame has burnt me; please turn my face away from the Fire.' He will keep on invoking Allah till Allah says, 'Perhaps, if I give you what you want), you will ask for another thing?' The man will say, 'No, by Your Power, I will not ask You for anything else.'
Then Allah will turn his face away from the Fire. The man will say after that, 'O Lord, bring me near the gate of Paradise.' Allah will say (to him), 'Didn't you promise not to ask for anything else? Woe to you, O son of Adam ! How treacherous you are!' The man will keep on invoking Allah till Allah will say, 'But if I give you that, you may ask me for something else.' The man will say, 'No, by Your Power. I will not ask for anything else.' He will give Allah his covenant and promise not to ask for anything else after that. So Allah will bring him near to the gate of Paradise, and when he sees what is in it, he will remain silent as long as Allah will, and then he will say, 'O Lord! Let me enter Paradise.' Allah will say, 'Didn't you promise that you would not ask Me for anything other than that? Woe to you, O son of Adam ! How treacherous you are!' On that, the man will say, 'O Lord! Do not make me the most wretched of Your creation,' and will keep on invoking Allah till Allah will smile and when Allah will smile because of him, then He will allow him to enter Paradise, and when he will enter Paradise, he will be addressed, 'Wish from so-and-so.' He will wish till all his wishes will be fulfilled, then Allah will say, All this (i.e. what you have wished for) and as much again therewith are for you.' "
Abu Huraira added: That man will be the last of the people of Paradise to enter (Paradise).
Narrated 'Ata (while Abu Huraira was narrating): Abu Said was sitting in the company of Abu Huraira and he did not deny anything of his narration till he reached his saying: "All this and as much again therewith are for you." Then Abu Sa'id said, "I heard Allah's Apostle saying, 'This is for you and ten times as much.' " Abu Huraira said, "In my memory it is 'as much again therewith.' "

یہ حدیث شیئر کریں