جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان، ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی سب سے پہلے کھا نا جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ رہنا، عدنت بارض کے معنی ہیں مکین نے اس زمین میں قیام کیا، مقعد صدق میں، معدن اسی سے ماخوذہے، یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ ۔
راوی: عثمان بن ابی شیبہ , جریر , منصور , ابراہیم , عبیدہ , عبد اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ کَبْوًا فَيَقُولُ اللَّهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَی فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَی فَيَقُولُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَی فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَی فَيَقُولُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَإِنَّ لَکَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا أَوْ إِنَّ لَکَ مِثْلَ عَشَرَةِ أَمْثَالِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ تَسْخَرُ مِنِّي أَوْ تَضْحَکُ مِنِّي وَأَنْتَ الْمَلِکُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَکَانَ يَقُولُ ذَاکَ أَدْنَی أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، منصور، ابراہیم، عبیدہ، عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس شخص کو جانتا ہوں، جو سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا اور سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا وہ آدمی ہوگا جو دوزخ سے اوندھے منہ نکلے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ وہ جنت میں آئے گا اس کو خیال آئے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے چنانچہ وہ لوٹ کر آئے گا اور عرض کرے گا یا رب میں نے اس کو بھرا ہوا پایا۔ اللہ فرمائیں گے کہ جا اور جنت میں داخل ہوجا وہ جنت میں جائے گا تو اس کو خیال ہوگا کہ بھری ہوئی ہے چنانچہ وہ دوبارہ لوٹ آئے گا اور عرض کرے گا یا رب میں نے اس کو بھرا ہوا پایا۔ اللہ فرمائیں گے کہ جا اور جنت میں داخل ہوجا وہ جنت میں جائے گا تو اس کو خیال ہوگا کہ بھری ہوئی ہے چنانچہ وہ دوبارہ لوٹ آئے گا اور عرض کرے گا کہ میں نے اس کو بھرا ہوا پایا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جا جنت میں داخل ہوجا میں تیرے لئے دنیا کے برابر اور اس کے دس گنا ہے یا فرمایا کہ تیرے لئے دنیا کی مثل دس گنا ہے۔ وہ کہے گا کہ آپ مجھ سے مذاق کرتے ہیں یا ہنسی کرتے ہیں حالانکہ آپ بادشاہ ہیں۔ میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور کہا جاتا تھا کہ یہ جنت والوں کا ادنی مرتبہ ہے۔
Narrated 'Abdullah:
The Prophet said, "I know the person who will be the last to come out of the (Hell) Fire, and the last to enter Paradise. He will be a man who will come out of the (Hell) Fire crawling, and Allah will say to him, 'Go and enter Paradise.' He will go to it, but he will imagine that it had been filled, and then he will return and say, 'O Lord, I have found it full.' Allah will say, 'Go and enter Paradise, and you will have what equals the world and ten times as much (or, you will have as much as ten times the like of the world).' On that, the man will say, 'Do you mock at me (or laugh at me) though You are the King?" I saw Allah's Apostle (while saying that) smiling that his premolar teeth became visible. It is said that will be the lowest in degree amongst the people of Paradise.
