جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان، ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی سب سے پہلے کھا نا جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ رہنا، عدنت بارض کے معنی ہیں مکین نے اس زمین میں قیام کیا، مقعد صدق میں، معدن اسی سے ماخوذہے، یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ ۔
راوی: سلیمان بن حرب , شعبہ , عمرو خیثمہ , عدی بن حاتم
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ النَّارَ فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا ثُمَّ ذَکَرَ النَّارَ فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِکَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ
سلیمان بن حرب، شعبہ، عمرو خیثمہ، عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوزخ کا ذکر کیا تو اپنا منہ پھیر لیا اور اس سے پناہ مانگی، پھر فرمایا کہ دوزخ سے بچو، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ کیوں نہ ہو، اور جس شخص کو یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی باتوں کے ذریعہ (اس سے بچے) ۔
Narrated 'Adi bin Hatim:
The Prophet mentioned the Fire and turned his face aside and asked for Allah's protection from it, and then again he mentioned the Fire and turned his face aside and asked for Allah's protection from it and said, "Protect yourselves from the Hell-Fire, even if with one half of a date, and he who cannot afford that, then (let him do so) by (saying) a good, pleasant word."
