جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان، ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی سب سے پہلے کھا نا جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ رہنا، عدنت بارض کے معنی ہیں مکین نے اس زمین میں قیام کیا، مقعد صدق میں، معدن اسی سے ماخوذہے، یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ ۔
راوی: محمد بن بشار , شعبہ , ابوعمران , انس بن مالک
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَی لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْ أَنَّ لَکَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْئٍ أَکُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ أَرَدْتُ مِنْکَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِکَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِکَ بِي
محمد بن بشار، شعبہ، ابوعمران، انس بن مالک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے کم عذاب والے سے فرمائے گا کہ اگر تمہارے پاس زمین کے برابر کوئی چیز (دولت) ہوتی تو کیا تم اسے دے کر اپنے کو عذاب سے چھڑاتے۔ وہ جواب دے گا ہاں! اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تجھ سے اس سے ہلکی چیز چاہی تھی، جب کہ تم آدم کے صلب میں تھا۔ وہ یہ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا لیکن تو نے انکار کردیا اور میرے ساتھ شریک بنایا۔
Narrated Anas bin Malik:
The Prophet said, "Allah will say to the person who will have the minimum punishment in the Fire on the Day of Resurrection, 'If you had things equal to whatever is on the earth, would you ransom yourself (from the punishment) with it?' He will reply, Yes. Allah will say, 'I asked you a much easier thing than this while you were in the backbone of Adam, that is, not to worship others besides Me, but you refused and insisted to worship others besides Me."'
