صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1499

جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان، ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی سب سے پہلے کھا نا جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ رہنا، عدنت بارض کے معنی ہیں مکین نے اس زمین میں قیام کیا، مقعد صدق میں، معدن اسی سے ماخوذہے، یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ ۔

راوی: قتیبہ , عبد العزیز , ابوحازم , سہل بن سعد

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا أَوْ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفٍ لَا يَدْرِي أَبُو حَازِمٍ أَيُّهُمَا قَالَ مُتَمَاسِکُونَ آخِذٌ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لَا يَدْخُلُ أَوَّلُهُمْ حَتَّی يَدْخُلَ آخِرُهُمْ وُجُوهُهُمْ عَلَی صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ

قتیبہ، عبد العزیز، ابوحازم ، سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار یا (فرمایا) سات لاکھ آدمی جنت میں داخل ہوں گے (ابو حازم کا بیان ہے، کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ نے ستر ہزار یا سات لاکھ فرمایا) ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہوں گے، جب تک ان کے پچھلے داخل نہ ہو لیں گے، اس وقت تک ان کے اگلے داخل نہ ہوں گے ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔

Narrated Sahl bin Sa'd:
Allah's Apostle said, "Seventy thousand or seven hundred thousand of my followers will enter Paradise. (Abu Hazim, the sub-narrator, is not sure as to which of the two numbers is correct.) And they will be holding on to one another, and the first of them will not enter till the last of them has entered, and their faces will be like the moon on a full moon night."

یہ حدیث شیئر کریں